اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

بروٹس نے خود کشی کر لی

نواز شریف ڈیپریشن کا شکار

نواز شریف ڈیپریشن کا شکار

اسلام آباد: سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف لندن میں قیام کے دوران مسلسل ڈیپریشن کا شکار ہیں، اس مرض سے نجات دلانے کے لئے مسلم لیگ ن کے سینئر رہنماؤں نے پاکستان میں موجود بہترین طبی ماہرین سے بھی مشاورت شروع کر دی ہے، اور کوشش کی جاری ہے کہ کچھ طبی ماہرین کو سرکاری خرچ پر لندن لے جا کر میاں نواز شریف کا علاج شروع کیا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق میاں نواز شریف نہ صرف بے خوابی کا شکار ہیں بلکہ مسلسل سر درد کے ساتھ ساتھ انہیں خودکلامی بھی کرتے دیکھا گیا ہے۔ پانامہ کیس کی سماعت کے دوران جب میاں نواز شریف وزارت عظمی ٰ کے عہدے پر موجود تھے اس وقت بھی پاکستان میں وہ طبی ماہرین سے ڈیپریشن سے نجات کے لئے مختلف ادویات لے رہے تھے اور دیسی نسخے بھی استعمال کرتے تھے، واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم کے لئے اس وقت سب سے زیادہ پریشانی نیب ریفرنسز کا دائر ہونا اور حدیبیہ پیپرز مل کیس کا ری اوپن ہونا ہے۔ میاں نواز شریف پورے خاندان کی سیاسی کشتی کو ڈوبتا ہوا محسوس کر رہے ہیں۔ انہیں زیادہ دباؤ اس وقت بھی محسوس ہوا جب انہوں نے محترمہ کلثوم نواز اور مریم صفدر سے مشورہ کئے بغیر شہباز شریف کو پارٹی صدر بنانے کا اعلان تو کر دیا لیکن بعد میں مریم صفدر اور کلثوم نواز نے اس فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہونے دیا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف ایک طرف دباؤ سے بچنے کے لئے طبی ماہرین کے نسخوں اور ادویات کے منتظر ہیں جبکہ دوسری طرف وہ اپنی سیاسی ساکھ کو بچانے کے لئے امریکہ کی ایک مہنگی ترین لابنگ کمپنی سے بھی معاہدہ کر چکے ہیں۔ میاں نواز شریف بیک وقت دو علاج شروع کروانا چاہتے ہیں ایک علاج ان کی صحت کے لئے اور دوسرا علاج ان کی سیاسی صحت کے لئے ہے۔پاکستان کے طبی ماہرین اور امریکی لابنگ فرم کے لئے یہ علاج بہت بڑا چیلنج سمجھا جا رہا ہے۔