اشاعت کے باوقار 30 سال

جامعہ کراچی سے انصارالشریعہ کے مزید 3 دہشت گرد گرفتار

جامعہ کراچی سے انصارالشریعہ کے مزید 3 دہشت گرد گرفتار

کراچی: پولیس اور حساس ادارے کے اہلکاروں نے کارروائی کرتے ہوئے جامعہ کراچی کی اسٹاف کالونی سے انصار الشریعہ کے 3 مبینہ دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار پر قاتلانہ حملے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشت گردوں کے گرد گھیرا تنگ کر دیا ہے اور اب تک متعدد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے خواجہ اظہار پر حملہ میں ملوث کالعدم انصار الشریعہ سے تعلق رکھنے والے عبدالکریم سروش صدیقی کو اس کے 3 ساتھیوں سمیت گرفتار کیا تھا جو جامعہ کراچی کے طالب علم تھے جس کے بعد فورسز نے جامعہ کی مسلسل نگرانی شروع کر دی تھی اور جامعہ کے طلبا کا ریکارڈ خفیہ اداروں کو دینے کا فیصلہ کیا تھا جب کہ جامعہ کراچی کی اسٹاف کالونی سے لیکچرار کو ان کے بیٹے سمیت گرفتار کیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق سیکیورٹی اداروں نے پہلے سے گرفتار ملزمان کی نشاندہی پر ایک پھر جامعہ کراچی میں کارروائی کرتے ہوئے مبینہ طور پر انصارالشریعہ کے 3 مزید دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا ہے جن کے قبضے سے اسلحہ، موبائل فون اور لیپ ٹاپ برآمد کر لیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عبدالکریم سروش صدیقی کے پیچھے کوئی بڑا ماسٹر مائنڈ ہے، ملزم کا گروپ نو لڑکوں پر مشتمل تھا، ملزم کے دیگر دوستوں کے بارے میں معلومات حاصل کی جا رہی ہے۔