اشاعت کے باوقار 30 سال

کینیڈا کے وزیر اعظم کا آنگ سان سوچی کو خط

کینیڈا کے وزیر اعظم کا آنگ سان سوچی کو خط

اوٹاوا: کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈ نے میانمر میں روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ پیش آنے والے مظالم پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں جمہوریت نواز رہنما آنگ سان سوچی کی اس معاملے پر خاموشی پر حیرانگی اور افسوس ہوا ہے۔ انہوں نے یہ بات آنگ سان سوچی کو لکھے گئے ایک خط میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے میانمر حکام کی پالیسی اور اقدامات پر تشویش لاحق ہے جن کا بظاہر ارادہ رخائن ریاست سے روہنگیا مسلمانوں کی شہری آبادی کو ختم کرنا ہے۔ انہوں نے میانمر کی سٹیٹ کونسلر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بحران کو حل کرنے کی ذمہ داری آپ پر اور میانمر کی فوجی قیادت پر عائد ہوتی ہے۔ جمہوریت نواز رہنما ہونے کے ناطے آپ کا اخلاقی اور سیاسی فرض بنتا ہے کہ ان مظالم کے خلاف آواز اٹھائیں اور جہاں تک ممکن ہو سکے انہیں روکنے کے لئے طاقت کا استعمال کریں۔ تاکہ میانمر کے لوگوں کو اس گہری نسلی تقسیم سے بچایا جا سکے۔ انہوں نے میانمر کی سیکیورٹی فورسز پر بھی زور دیا ہے کہ وہ تشدد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ بند کر دیں اور میانمر حکومت تمام روہنگیا پناہ گزینوں کی واپسی کا خیرمقدم کرے اور ان کی شہریت کا مسئلہ حل کیا جائے اور تمام حقوق دیئے جائیں جبکہ انسانی حقوق کے لئے اقوام متحدہ کے کمشنر کو بھی رسائی دی جائے۔

loading...