اشاعت کے باوقار 30 سال

اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کیس کا ایک اور فیصلہ آ گیا

اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کیس کا ایک اور فیصلہ آ گیا

لاہور : پاکستان سپر لیگ کے دوسرے ایڈیشن کے دوران سامنے آنے والے اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں ملوث کھلاڑی خالد لطیف پر 5 سال کی پابندی اور 10 لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا گیا۔ جسٹس ریٹائر اصغر حیدر کی سربراہی میں سابق چیئرمین پی سی بی لیفٹیننٹ جنرل (ر) توقیر ضیا اور سابق وکٹ کیپر وسیم باری پر مشتمل پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے اینٹی کرپشن ٹریبیونل نے خالد لطیف کے خلاف اسپاٹ فکسنگ کیس کا فیصلہ سنایا اور ان پر لگائے گئے الزامات ثابت ہونے کے بعد ہر طرز کی کرکٹ کھیلنے پر 5 سال کی پابندی عائد کر دی گئی۔ ٹریبیونل نے خالد لطیف کے حوالے سے فیصلہ گذشتہ ماہ 20 اگست کو محفوظ کیا تھا جسے آج خالد لطیف اور ان کے وکیل بدر عالم کی غیر موجودگی میں سنایا گیا۔ لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی سی بی کے قانونی مشیر تفضل رضوی کا کہنا تھا کہ الزامات کو ثابت کرنا پی سی بی کا کام ہے اور اس حوالے سے فیصلہ دینا ٹریبیونل کے دائرہ اختیار میں ہوتا ہے. انہوں نے کہا کہ ٹریبیونل کے فیصلے کے خلاف خالد لطیف کے پاس سپریم کورٹ میں اپیل کرنے کا حق ہے. خالد لطیف پر آرٹیکل 2.1.1 کے تحت میچ فکسنگ میں ملوث ہونے، کرپشن کے معاملات کو نظر انداز کرنے یا کسی بھی طرح غلط طریقے سے کرپشن کے معاہدے کرنے یا اس حوالے سے اثرانداز ہونے کے الزامات لگائے گئے، جن کی وجہ سے ڈومیسٹک میچز سمیت دیگر میچز میں جان بوجھ کر غیر تسلی بخش کاکردگی جیسے عوامل رونما ہوئے۔ ٹیسٹ کرکٹر پر آرٹیکل 2.1.2 کے تحت الزام لگایا گیا جس کے مطابق خالد لطیف ڈومیسٹک میچز کے دوران کرپشن میں ملوث پائے گئے. آرٹیکل 2.1.3 کے تحت خالد لطیف پر کسی بھی طرح کی رشوت لینے، قبول کرنے، پیش کش کرنے یا اس کے لیے رضامندی ظاہر کرنے کے الزامات بھی عائد کیے گئے۔ خالد لطیف پر آرٹیکل 2.4.4 کی خلاف ورزی کا الزام بھی لگایا گیا، اس آرٹیکل کے تحت کرکٹر پر میچ فکسنگ سے متعلق کسی طرح کی بھی معلومات کرکٹ بورڈ کے محکمہ نگرانی کو نہ بتانے کا الزام لگایا گیا۔کرکٹر پر آرٹیکل 2.4.5 کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے کہا گیا کہ خالد لطیف کرپشن یا میچ فکسنگ سے متعلق کسی بھی واقعے کی معلومات پی سی بی کے سیکیورٹی اور محکمہ نگرانی کو بتانے میں ناکام ہوئے، اور یہ عمل کرکٹ بورڈ کے اینٹی کرپشن قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ یاد رہے کہ رواں سال فروری میں متحدہ عرب امارات میں منعقدہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے دوسرے ایڈیشن کے آغاز میں ہی اسپاٹ فکسنگ کے الزامات پر اسلام یونائیٹڈ کے دو کھلاڑیوں شرجیل خان اور خالد لطیف کو پاکستان واپس بھیج دیا گیا تھا. بعد ازاں شاہ زیب حسن، ناصر جمشید اور فاسٹ بالر محمد عرفان کو بھی بکیز سے رابطے رکھنے پر نوٹس جاری کرتے ہوئے پی ایس ایل سے باہر کر دیا گیا تھا۔ محمد عرفان نے پی سی بی کے اینٹی کرپشن کوڈ کی خلاف ورزی کا اعتراف کر لیا تھا جس کے بعد ان پر ہر قسم کی کرکٹ کھیلنے پر ایک سال کی پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ پی سی بی نے عرفان پر 10 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا تھا اور کہا تھا کہ ڈسپلن بہتر ہونے پر فاسٹ بالرز کی سزا 6 ماہ تک محدود کی جا سکتی ہے۔ گذشتہ ماہ 30 اگست کو پی سی بی ٹریبیونل کی جانب سے اوپننگ بیٹسمین شرجیل خان پر اسپاٹ فکسنگ تحقیقات میں 5 الزامات ثابت ہونے پر 5 سال کی پابندی عائد کی گئی تھی۔ ناصر جمشید کو اسپاٹ فکسنگ کیس میں مبینہ طور پر سہولت کار کا کردار ادا کرنے پر برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے بھی یوسف نامی بکی کے ساتھ گرفتار کیا تھا لیکن بعد میں انہیں ضمانت پر رہا کر دیا تھا۔

loading...