اشاعت کے باوقار 30 سال

خیبر پختونخوا میں ڈینگی پھیلانے کی سازش بے نقاب

خیبر پختونخوا میں ڈینگی پھیلانے کی سازش بے نقاب

پشاور: صوبہ خیبر پختونخواہ میں ڈینگی کی وباء بری طرح پھیل چکی ہے اور اب تک 27 لوگ لقمہ اجل بن چکے ہیں جب کہ مزید 242 لوگ اس موذی مرض کا شکار ہو کر ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ اور اب ایک ایسا تہلکہ خیز انکشاف منظرعام پر آیا ہے جس کے باعث تمام لوگ ہی ہکا بکا ہو کر رہ گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پیر کے روز ایک ہی فیملی کے چار افراد کو گرفتار کیا گیا جو ڈینگی مچھروں کے بھرے بیگ مختلف علاقوں میں لے جا کر انہیں آزاد کر دیتے تھے۔ یہ لوگ ڈینگی مچھروں سے بھرا بیگ خیبر پختونخواہ کے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں بھی لے کر آئے مگر انہیں آزاد کرنے سے پہلے ہی پکڑے گئے۔
حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شہزاد اکبر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حکام نے لیاقت، اس کے بیٹے سیف اللہ، بیوی اور بیٹی کو پکڑا جو ڈینگی مچھروں سے بھرا بیگ ہسپتال لے کر آئے۔ انہوں نے بتایا کہ ملزموں نے شہر کے مختلف علاقوں میں شاپنگ بیگز اور دیگر بیگز میں ڈینگی مچھروں کو لے جا کر آزاد کرنے اور صوبے میں موذی وائرس کو پھیلانے کا اعتراف کر لیا ہے جب کہ مختلف سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں انہیں ایسا کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ ڈاکٹر شہزاد کے مطابق انہیں بہت خوشی ہے کہ ملزمان کو ہسپتال میں مچھر چھوڑنے سے پہلے ہی پکڑ لیا گیا جنہوں نے تفتیش کے دوران اپنے جرم کا اعتراف کیا اور یہ انکشاف بھی کیا کہ انہیں یہ کام کرنے کے لئے بڑی رقم دی گئی تھی۔ مذکورہ ملزمان کا تعلقہ پشتہ خارا گاﺅں سے ہے جن کا کہنا ہے کہ وہ غریب ہیں اور پیسوں کی ضرورت کے باعث یہ کام کرنے پر مجبور ہوئے مگر وہ یہ نہیں جانتے ہیں کہ انہیں یہ کام کرنے کے لئے رقم کس نے ادا کی۔
اس کے ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مذکورہ ملزموں کو ابتدائی تفتیش کے بعد سخت وارننگ دے کر چھوڑ دیا گیا جس کے باعث اس تمام معاملے پر کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اگر یہ ملزم واقعی اس گھناﺅنے کام میں ملوث تھے تو پھر انہیں چھوڑ کیوں دیا گیا اور انہیں یہ کام کرنے کے لئے پیسے ادا کرنے والے افراد کا کھوج لگانے کی کوشش کیوں نہیں کی گئی۔ دوسری جانب سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حرکت خیبر پختونخواہ حکومت کی صحت کے شعبے میں کی جانے والی کوششوں کو سبوتاژ کرنا ہے اور جس نے بھی یہ حرکت کرنے کی کوشش کی اس نے سیاسی فائدے کے حصول کے لئے غریب عوام کا بھی خیال نہیں کیا۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ صوبہ خیبر پختونخواہ میں زیادہ تر علاقوں کا موسم ڈینگی مچھروں کی افزائش کے لئے موزوں نہیں ہے اور اس بات کو مدنظر رکھا جائے تو یہ بھی ممکن ہے کہ ڈینگی کی وباء پھیلانے والے مچھر کسی اور علاقے سے خیبر پختونخواہ میں لائے گئے۔

loading...