اشاعت کے باوقار 30 سال

افغانستان میں قیام امن کے لئے کوشش جاری رکھنے پر اتفاق

افغانستان میں قیام امن کے لئے کوشش جاری رکھنے پر اتفاق

نیویارک: وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے امریکی نائب صدر مائیک پنس ،ترک صدرطیب اردوان اور ایرانی صدر حسن روحانی نے ملاقاتیں کی،ملاقاتوں کے دوران پاکستان کے امریکہ ، ایران اور ترکی کے تعلقات سمیت اہم عالمی و علاقائی امور بالخصوص افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا ،چاروں رہنماؤں نے افغانستان میں قیام امن کے لئے کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا اور دنیا سے دہشت گردی کے خاتمے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور امریکا کے نائب صدر مائیک پینس کے درمیان ہونے والی ملاقات میں خطے میں امن و سلامتی کے لیے افغانستان کی صورت حال پر پاک امریکا مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کر لیا گیا۔یہ اتفاق رائے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور امریکا کے نائب صدر مائیک پینس کے درمیان ملاقات کے دوران ہوا۔ جس میں اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی، وزیر خارجہ خواجہ آصف، سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ اور امریکا میں پاکستانی سفیر اعزاز چوہدری اور فواد حسن فواد بھی موجود تھے۔ امریکی نائب صدر مائیک پنس نے شاہدخاقان عباسی کی آمد پرشکریہ ادا کیا۔ مذاکرات کے ذریعے دو طرفہ امور کا حل تلاش کرنے کے مقصد کے لیے ایک امریکی وفد اگلے مہینے پاکستان کا دورہ کرے گا۔شاہد خاقان عباسی اور مائیک پینس کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے صحافیوں کو بتایا کہ وزیراعظم نے امریکا کے نائب صدر کو افغانستان اور جنوبی ایشیا کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پالیسی بیان کے بعد قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں سے آگاہ کیا۔انہوں نے کہا کہ فریقین نے افغانستان کے مسئلے پر مذاکرات جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔ملاقات کے دوران امریکا کے نائب صدر مائیک پینس نے کہا کہ واشنگٹن پاکستان کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور وہ خطے میں امن اور سلامتی کے لیے اسلام آباد کے ساتھ طویل مدت کی شراکت داری چاہتا ہے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف بین الاقوامی کوششوں کا حصہ ہے اور اس جنگ میں ہم نے بہت نقصان اٹھایا ہے اور ہم اس جنگ کو عالمی برادری کے تعاون سے منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔اس موقع پر امریکا کے نائب صدر کا کہنا تھا کہ امریکا پاکستان سے تعلقات کواہمیت دیتا ہے، خطے کی سلامتی کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کرکام کرناچاہتے ہیں، خطے کے امن اورسلامتی کے لیے پاکستان کے ساتھ طویل المدتی شراکت داری چاہتے ہیں جب کہ پاکستان سے بہترتعلقات کے لیے نئی راہیں تلاش کررہے ہیں۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ترکی کے صدر رجب طیب اردگان سے بھی ملاقات کی جس میں دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ترکی کے درمیان اقتصادی تعاون بڑھانے پر خصوصی توجہ جاری رکھنے پر زور دیا۔وزیر اعظم نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان روابط اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل ہوگئے ہیں جو ہر گزرتے دن کے ساتھ مضبوط ہورہے ہیں۔شاہد خاقان عباسی نے مقبوضہ کشمیر کے عوام کی جدوجہد میں ترکی کی غیر متزلزل حمایت پر ترک صدر کا شکریہ ادا کیا۔ترک صدر نے مختلف شعبوں میں ٹھوس تعاون کے ذریعے دو طرفہ تعلقات کو فروغ دینے کو سراہا، انہوں نے باہمی مفاد پر مبنی اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانے کی مسلسل کوششوں میں ترکی کے عزم کا اعادہ کیا۔طیب اردگان نے پاکستان کے اس موقف کی تائید کی کہ افغان تنازع کا فوجی حل ممکن نہیں۔دونوں رہنماؤں نے افغانستان میں پائیدار امن واستحکام کے فروغ کے لیے پاکستان، افغانستان اور ترکی پر مشتمل سہ فریقی عمل کی بحالی پر بھی اتفاق کیا۔ اس سے قبل وزیر اعظم نے ایرانی صدر حسن روحانی سے بھی ملاقات کی جس میں باہمی امور اور دو طرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا جب کہ دونوں
رہنماؤں نے قریبی تعلقات کومزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا اور افغانستان میں امن اور استحکام کے لیے کوششوں سے متعلق بھی خیالات کا اظہار کیا جب کہ ایرانی صدر نے سرحدی انتظام، تجارت اور سرمایہ کاری میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔ اس موقع پر شاہدخاقان عباسی نے مسئلہ کشمیر کی حمایت پر ایرانی صدر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ افغان مسئلے کا فوجی حل نہیں ہو سکتا ۔یاد رہے کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اقوام متحدہ کے 72ویں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے چار روزہ دورے پر امریکا میں موجود ہیں۔