اشاعت کے باوقار 30 سال

پاکستان نے آزادی کپ اپنے نام کر لیا

پاکستان نے آزادی کپ اپنے نام کر لیا

لاہور: پاکستان نے آزادی کپ کے فیصلہ کن معرکے میں ورلڈ الیون کو 33 رنز سے شکست دے کر 3 میچوں کی سیریز 1-2 سے اپنے نام کر لی۔ قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے گئے آزادی کپ سیریز کے آخری معرکے میں پاکستان کے 183 رنز کے جواب میں ورلڈ الیون کی جانب سے ہاشم آملہ اور تمیم اقبال نے اننگز کا آغاز کیا۔ تمیم اقبال نے پہلے ہی اوور میں لاٹھی چارج کرتے ہوئے عماد وسیم کو 3 چوکے رسید کیے لیکن اگلے ہی اوور میں عثمان خان شنواری نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمیم اقبال کو کلین بولڈ کر کے 14 رنز پر واپس پویلین بھیج دیا۔ ہاشم آملہ نے چوتھے اوور میں عثمان کو 3 چوکے لگائے مگر اگلے اوور کی پہلی گیند پر حسن علی نے بین کٹنگ کو بولڈ کیا اور اس سے اگلی ہی گیند پر ہاشم آملہ بھی 21 رنز بنا کر رن آؤٹ ہو گئے جب کہ رومان رئیس نے چھٹا اوور میڈن کر کے ورلڈ الیون کی مشکلات میں اضافہ کیا۔ کپتان فاف ڈپلسی بھی 13 رنز بنا کر رن آؤٹ ہوئے جب کہ اپنا پہلا میچ کھیلنے والے جارج بیلے بھی صرف 3 رنز ہی بنا سکے تاہم ورلڈ الیون کو اپنی جارحانہ اننگز سے دوسرے میچ میں فتح سے ہمکنار کروانے والے پریرا نے ایک بار پھر گراؤنڈ میں آتے ہی چھکوں کی برسات کر دی اور شاداب خان کو مسلسل 3 چھکے رسید کیے مگر وہ بھی 13 گیندوں پر 32 رنز کی اننگز کھیل کر پویلین واپس لوٹ گئے۔ ڈیرن سیمی اور ڈیوڈ ملر نے آخری لمحات میں برق رفتار اننگز کھیلی مگر ڈیوڈ ملر اپنے ساتھی کا زیادہ دیر ساتھ نہ دے سکے اور 33 رنز پر آؤٹ ہو گئے تاہم ڈیرن سیمی آخری وقت تک پچ پر ڈٹے رہے لیکن وہ ٹیم کو فتح یاب نہ کروا سکے جب کہ رومان رئیس اور حسن علی نے اختتامی اوورز میں شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ورلڈ الیون کے بلے بازوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں دیا۔ اس سے قبل ورلڈ الیون کے کپتان فاف ڈپلسی نے ٹاس جیت کر پاکستان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی، قومی ٹیم کی جانب سے فخر زمان اور احمد شہزاد نے اننگز کا آغاز کیا۔ دونوں اوپنرز نے جارحانہ آغاز کرتے ہوئے پہلے ہی اوور میں 12 رنز بنائے اور احمد شہزاد نے دوسرے اوور میں بھی 2 شاندار چوکے لگائے جب کہ فخر زمان نے بھی پچھلے میچ کے ہیرو تھیسارا پریرا کو شاندار چھکا رسید کیا۔ دونوں اوپنرز نے ٹیم کو 61 رنز کا اچھا آغاز فراہم کیا لیکن احمد شہزاد نے ڈیرن سیمی کی ایک گیند کو اسٹریٹ ڈرائیو مارنے کی کوشش کی لیکن بدقسمتی سے گیند سیدھی جا کر وکٹوں میں لگنے سے دوسری طرف موجود فخر زمان رن آؤٹ ہو گئے۔ پچھلے 2 میچوں کی نسبت احمد شہزاد آج جارحانہ موڈ میں دکھائے دیے اور گراؤنڈ کے چاروں اطراف شاندار اسٹروکس کھیلتے ہوئے 37 گیندوں پر اپنی نصف سنچری مکمل کی جس کے بعد اوپنر نے مزید جارحانہ اننگز کھیلتے ہوئے 18ویں اوور میں بین کٹنگ کو 3 مسلسل چھکے رسید کیے۔ بین کٹنگ کو 3 چھکے لگانے کے بعد احمد شہزاد بدقسمتی سے اگلی ہی گیند پر رن آؤٹ ہو گئے اور صرف 11 رنز سے اپنی سنچری مکمل نہ کر سکے، 55 گیندوں پر 89 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر پویلین واپس لوٹے۔دونوں میچز میں آخری لمحات میں جارحانہ اننگز کھیلنے والے شعیب ملک آج بھی موڈ میں دکھائی دیے اور تیسرے ہی گیند پر شاندار چھکا رسید کر کے اپنا اکاؤنٹ کھولا۔ پہلے میچ کے مین آف دی میچ بابر اعظم نے تیسرے میچ میں بھی ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے گیندوں پر 48 رنز کی اننگز کھیلی جس میں 5 چوکے شامل تھے جب کہ شعیب ملک 17 رنز پر ناٹ آؤٹ رہے۔ احمد شہزاد کو شاندار اننگز کھیلنے پر مین آف دی میچ سے نوازا گیا جب کہ بابر اعظم کو پوری سیریز میں شاندار اسکور کرنے پر مین آف دی سیریز سے نوازا گیا۔

loading...