اشاعت کے باوقار 30 سال

دانتوں کے کیڑوں اور معدے کی تیزابیت کا آسان علاج

 دانتوں کے کیڑوں اور معدے کی تیزابیت کا آسان علاج

لندن: دانت کے درد کی وجہ سے انسان ہر کام بھول جاتا ہے اور اس سے چھٹکارے کے لئے کڑوی سے کڑوی دوائی کھانے کو بھی تیار ہو جاتا ہے۔ انٹی بائیوٹکس اور درد کش ادویات کی وجہ سے دانت کی سوزش یا اس میں لگا کیڑا تو کم ہو جاتی ہے لیکن ساتھ ہی دیگر مسائل میں اضافہ ہو جاتا ہے جیسے معدہ خراب ہونا یا مدافعتی نظام کی کمزوری۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ہمیں کوئی ایسا قدرتی طریقہ مل جائے جس میں نہ کوئی نقصان ہو اور نہ کوئی کڑوی دوائی کھانی پڑے تو آئیے آپ کو ایک ایسا قدرتی میٹھا نسخہ بتاتے ہیں اور یہ ملٹھی ہے جس کی وجہ سے آپ کے دانت کا درد ٹھیک ہو گا۔
ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ ملیٹھی دانتوں کے درد اور ان کی سڑن کے لئے انتہائی مفید پائی گئی ہے۔ اس کے استعمال سے دانتوں میں موجود بیکٹیریا کم ہونے سے درد اور سوزش میں کمی آتی ہے۔ہمارا منہ مختلف طرح کے بیکٹیریا کا گھر ہے جس کی وجہ ہمارا کئی طرح کے کھانوں کا استعمال ہے اور ان بیکٹیریا کی وجہ سے دانت سڑنے لگتے ہیں اور ان میں درد شروع ہو جاتا ہے۔ ایک بیکٹیریا جس کا نام streptococcus mutans بتایا جاتا ہے صرف چینی پر زندہ رہتا ہے اور جب بھی اسے چینی ملتی ہے یہ کھا کر ایک فضلہ خارج کرتا ہے جس میں تیزابی مادے زیادہ ہوتے ہیں اور یوں ہمارے دانت سڑن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح ایک اور بیکٹیریا اپنے اردگرد ایک گھیرا سا بنا کر رہتا ہے جس کی وجہ سے کوئی چیز بھی اسے ختم نہیں کر پاتی۔ملٹھی میں دو طرح کے اجزاء پائے جاتے ہیں جنہیں licoricidin اور licorisoflavan کہا جاتا ہے اور ان کی وجہ سے ان انزائمز کو ختم کرنے میں مدد ملتی ہے جو بیکٹیریا کو اپنے گرد ایک گھیرا بنانے میں مدد دیتا ہے اور اس طرح دانت کی سڑن کم ہوتی ہے۔
دانتوں کے درد کے لئے ملیٹھی کا استعمال
گولیوں یا ٹافیوں میں جو ملٹھی استعمال کی جاتی ہے وہ ایک ذائقہ ہوتا ہے اور اس کا اصل ملٹھی سے کوئی تعلق نہیں۔ اگر آپ یہ گولیاں کھا کر امید کرتے ہیں کہ آپ کے دانت کا درد ٹھیک ہو جائے گا تو آپ کا خیال غلط ہے۔کوشش کریں کہ آپ کو ملیٹھی کی ایک تازہ جڑ مل جائے یا کوئی پرانی ملٹھی کی جڑ بھی کام دے گی۔اب اسے اپنے منہ میں رکھ کر چبائیں اور تب تک ایسا کرتے رہیں جب تک جڑ کے ریشے نظر نہ آنے لگیں اور یہ مسواک کی طرح نہ دکھنے گے۔ اب ان ریشوں سے دانتوں کو صاف کریں اور جس جگہ درد ہو اس پر بھی آرام سے ملیں، آپ دیکھیں گے کہ کچھ ہی دنوں میں آپ کے دانت کی درد کم ہو چکی ہے ۔
ملیٹھی اور گلے کی سوزش وزکام
زمانہ قدیم ہی سے ملیٹھی کو زکام، نزلہ، گلے کی سوزش اور خراش کو ٹھیک کرنے کے ئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ مصری تہذیب کے لوگ بھی اسے اپنی گلے کی سوزش کی ادویات کی تیاری میں استعمال کرتے تھے۔ ایک تازہ تحقیق میں سگریت نوش افراد کو ملٹھی کھانے کو دی گئی اور یہ بات سامنے آئی کہ اس کی وجہ سے ان کی کھانسی اور بلغم میں کمی ہوئی۔ اگر آپ بھی گلے کی خراش اور کھانسی کا شکار ہیں تو ملٹھی کی جڑ کو پانی میں ابالیں اور اس میں چند قطرے شہد ملاکر پینے سے آپ کو کافی آرام ملے گا۔
جسمانی سوزش کے لئے
ہمارے کھانے پینے اور چلنے پھرنے کی عادات کی وجہ سے جسم میں سوزش بڑھتی ہے جس کی وجہ سے سر میں درد اور سوزش کی شکایت رہتی ہے لیکن اگر ملٹھی کا استعمال کیا جائے تو کافی افاقہ ہوتا ہے۔Natural Product Communications Journal میں شائع ہونی والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ملٹھی آئی بو پروفین سے زیادہ کارآمد اور دردوں کو کم کرنے میں اہم کرداد ادا کرتی ہے۔
سینے کی جلن
ملٹھی والی چائے کی وجہ سے سینے کی جلن ،گیس، معدے میں درد اور جی متلانے والی علامات کو ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔ ملٹھی کو ابلے ہوئے ہانی میں ڈالیں اور چند منٹوں بعد اسے نتھار کر پی لیں۔یہ عمل دو سے تین دن تک کرنے کے بعد آپ کو سینے کی جلن سے راحت ملے گی۔

loading...