اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

آٹھواں سیارہ دریافت ہوا

حالیہ تباہ کن سمندری طوفانوں کا سبب گلوبل وارمنگ ہے

حالیہ تباہ کن سمندری طوفانوں کا سبب گلوبل وارمنگ ہے

واشنگٹن: آب و ہوا سے متعلق متعدد سائنس دانوں نے اس بات پر اتفاق ہے کیا کہ حالیہ دنوں میں امریکہ کو ہاروی اور ارما نامی جن دو بہت بڑے اور انتہائی شدید طوفانوں کا سامنا کرنا پڑا اور جن کی وجہ سے اربوں ڈالر کے معاشی نقصانات کے ساتھ ساتھ درجنوں قیمتی جانیں بھی ضائع ہوئیں، گلوبل ورامنگ کا نتیجہ تھے، تاہم ابھی وہ یہ بات کہنے سے ہچکچا رہے ہیں۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ بظاہر سمندری بادو باراں کے طوفان تھے لیکن درحقیقت وہ کرہ ارض کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کا ردعمل تھے۔ چوٹی کے ماہرین نے کہا ہے کہ طبیعات میں درج قوانین، کمپیوٹر کے ماڈل، سمندروں کی سطحوں، اور سمندر کے پانیوں اور ماحول کے درجہ حرارت میں اضافے اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ یہ تباہ کن مرطوب موسمی طوفان ان تبدیلیوں کا نتیجہ تھے۔ دوسری جانب اس کہانی کی کچھ اہم کڑیاں فی الحال اس لیے غائب ہیں کیونکہ آب و ہوا کی سائنس میں اہم نتائج طویل عرصے کے مشاہدے کے بعد ہی حاصل ہوتے ہیں۔ برطانیہ کی برسٹل یونیورسٹی کے ماحولیات کے ایک ماہر ڈین مٹچل کہتے ہیں کہ یہ چیز بہت مایوس کن ہے کہ ہم ابھی تک سو فی صد یقین کے ساتھ یہ نہیں کہہ سکتے کہ سمندری طوفان کو آب و ہوا کی تبدیلیوں نے جنم دیا، جب کہ کئی دوسروں چیزوں مثلاً گرمی کی لہروں کے متعلق ہم یہ بات کہہ سکتے ہیں۔ سائنس دانوں کی ایک بڑی تعداد کا یہ خیال ہے کہ یہ نتیجہ اخذ کرنے کے لیے پہلے سے ہی بہت سا ٹھوس مواد موجود ہے۔ جرمنی کی یونیورسٹی آف پوسٹڈیم کے پروفیسر ایندرس لیورمین کہتے ہیں کہ اس بارے میں طبعیات بہت واضح ہے کہ سمندری طوفان، اپنی تباہ کن طاقت گرم سمندر سے حاصل کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کوئلہ تیل اور گیس جلانے سے پیدا ہونے والی گرین ہاؤس گیسوں سے ہمارے کرہ ارض کا درجہ حرارت بڑھتا ہے اور وہ ہر طاقت ور موسمی طوفان کو توانائی فراہم کرتا ہے۔ اور اس کے بعد عالمی پیمانے پر سمندروں کے زمین پر مرتب ہونے والے نقش ہیں۔ اگر ہم 1880 کے عشرے کے وسط کو اپنے سامنے رکھیں تو سمندروں کی سطح 20 سینٹی میٹر یعنی 8 انچ تک بلند ہو چکی ہے اور اس صدی کے آخر تک اس میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔