اشاعت کے باوقار 30 سال

کاغذات نامزدگی کی منظوری کے خلاف دائر درخواستیں مسترد

کاغذات نامزدگی کی منظوری کے خلاف دائر درخواستیں مسترد

لاہور : لاہور ہائی کورٹ نے این اے 120کے ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی امیدوار بیگم کلثوم نواز کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کے خلاف دائر درخواستیں مسترد کر دیں، فیصلے میں بنچ کے رکن جسٹس عباد الرحمن لودھی نے اختلافی نوٹ دیا۔لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس امین الدین خان ،جسٹس عبادالرحمن لودھی اور جسٹس شاہد جمیل کی سربراہی میں تین رکنی فل بنچ نے اپیلوں کی سماعت کی،عدالتی حکم پر ریٹرننگ افسر محمد شاہد نے پیش ہو کر بتایا کہ انہوں نے سمری ٹرائل کرتے ہوئے درخواست پر حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے کاغذاتی نامزدگی منظور کئے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل کے عدالت پیش ہونے پر درخواست گزاروں کا اعتراض عدالت نے مسترد کر دیا،ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس عدالت کو درخواستوں کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں،حلقے کے ووٹرز ہی اپنے ووٹوں کے ذریعے امیدواروں کی اہلیت کا فیصلہ کرتے ہیں، بیگم کلثوم نواز کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ درخواست گزاروں نے جو اعتراضات عائد کئے اس کے کوئی ثبوت فراہم نہیں کئے، قانون کے تحت ریٹرننگ افسر صرف کاغذات نامزدگی مسترد کرنے پر جواز فراہم کرنے کا پابند ہے،بیگم کلثوم نواز کے کاغذات نامزدگی منظور ہوئے اسی لئے اعتراضی درخواستوں کو مسترد کرنے کا جواز فراہم نہیں کیا گیا، جس پر جسٹس عبادالرحمن لودھی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس سوال کا جواب ریٹرننگ افسر کی بجائے آپ کی جانب سے آنے پر بہت سارے سوالات جنم لے سکتے ہیں، اگر کاغذات نامزدگی کے منظوری یا مسترد کرنے پر جواز فراہم کرنا لازم نہیں تو کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کرنے کا مذاق بند کر دیا جائے اور الیکشن ٹربیونل کو ختم کر دیا جائے، درخواست گزاروں کے وکلاء نے دلائل دئے کہ بیگم کلثوم نواز نے کاغذات نامزدگی میں اپنی آمدن اور اثاثوں سے متعلق حقائق چھپائے۔ بیگم کلثوم نواز نے خود کو نوازشریف کی زیر کفالت ظاہر کیا مگر وہ کئی کمپنیوں میں شیئر ہولڈر ہیں،بیگم کلثوم نواز نے زرعی انکم ٹیکس کی ادائیگی نہیں کی ، اقامہ ظاہر کیا مگر تنخواہ کی رسید اور اس سے ہونے والی بچت کو ظاہر نہیں کیا، بیگم کلثوم نواز نے مری کی رہائش گاہ میں موجود فرنیچر اور دیگر گھریلو اشیاء کا کوئی ذکر نہیں کیا، بیگم کلثوم نواز نے کاغذات نامزدگی میں حقائق چھپائے ،عوامی تحریک کے وکیل نے بتایا کہ بیگم کلثوم نواز کے خلاف سندھ میں بغاوت کا مقدمہ درج ہے جس میں بیگم کلثوم نوازمفرور ہیں، عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے چاروں درخواستوں کو مسترد کر دیا، فیصلے میں بنچ کے ایک فاضل جج نے اختلافی نوٹ بھی دیا ہے۔ اپیلوں کی سماعت کے دوران عدالت نے اپیل کنندگان کے وکلاء سے استفسار کیا کہ آپ نے کاغذات نامزدگی پر جو اعتراضات لگائے ہیں ان کا ریکارڈ اور ثبوت موجود ہیں؟ تاہم وکلاء کی جانب سے ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا۔عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ کے تین رکنی فل بنچ نے دو ،ایک اکثریتی فیصلہ کے ساتھ بیگم کلثوم نواز کے کاغذات نامزدگی منظور کرنے کے خلاف دائر اپیلیں مسترد کر دیں، بنچ کے رکن جسٹس عباد الرحمن لودھی نے اپیلوں پر اختلافی نوٹ دیا۔

loading...