اشاعت کے باوقار 30 سال

لاہور ہائی کورٹ میں خاتون ججوں کے لئے صنفی امتیازختم

 لاہور ہائی کورٹ میں خاتون ججوں کے لئے صنفی امتیازختم

لاہور: چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سید منصور علی شاہ کے عدالتی اصلاحات پروگرام کے تحت ضلعی عدلیہ میں خاتون ججوں کے لئے باضابطہ طور پر صنفی تنوع (جینڈر ڈائیورسٹی) کی پالیسی نافذ کر دی گئی ہے، جس کے تحت خاتون ججوں کو مرد ججوں کے برابر مواقع ملیں گے۔پالیسی میں پہلی بار اس امر کو زیر غور لایا گیا ہے کہ مستقبل میں لاہور ہائی کورٹ میں بطور جج تعیناتی کے لئے مرد سیشن ججوں کے ساتھ ساتھ خاتون سیشن ججوں کو بھی زیر غور لایا جائے گا، ماضی میں کبھی بھی خاتون سیشن ججوں کو لاہور ہائی کورٹ میں بطور جج تعیناتی کے لئے زیر غور نہیں لایا گیا، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سید منصور علی شاہ کی منظوری کے بعد ڈائریکٹویٹ آف ڈسٹرکٹ جوڈیشری نے جینڈر ڈائیورسٹی پالیسی ضلعی عدلیہ میں نافذ کرنے کا مراسلہ جاری کر دیا ہے، پالیسی کے مطابق ضلعی عدلیہ میں خواتین کو ججوں کی بھرتیوں میں میرٹ اور قابلیت کے بنیاد پر شامل کیا جائے گا اور وہ ججوں کی بھرتیوں میں آزادانہ حصہ لے سکیں گی ۔جب کہ مرد ججوں کی طرح خاتون ججوں کو بھی ضلعی عدلیہ کے انتظامی امور میں مساوی نمائندگی دی جائے گی، خاتون ججوں کو بھی ترقی کے لئے اضافی قابلیت دکھانا ہو گی ، پالیسی کے مطابق خواتین کو کریمنل کوآرڈی نیشن کمیٹی اور غیر ملکی جوڈیشل کانفرنسز میں شرکت کے مواقع میں بھی برابر کی نمائندگی دی جائے گی ۔پالیسی میں کہا گیا ہے کہ ضلعی عدلیہ میں خاتون ججوں کو مناسب رہائش گاہ کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔

loading...