اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

آٹھواں سیارہ دریافت ہوا

وکلاء لاہور ہائی کورٹ کے نئے سسٹم کو سمجھیں

 وکلاء لاہور ہائی کورٹ کے نئے  سسٹم کو سمجھیں

لاہور: چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کے پرانے نظام کو نئے سسٹم کے ساتھ مکمل طور پر تبدیل کر دیا گیا ہے جس میں وکلاء اور سائلین کے لئے پہلے سے بہت زیادہ آسانیاں اور سہولیات موجود ہیں۔ پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے تعاون سے لاہور ہائی کورٹ میں شروع کیا جانے والا انٹر پرائز آئی ٹی سسٹم مکمل طور پر فعال ہے، پی آئی ٹی بی اور کنسلٹنگ کمپنی ٹیک لاجکس کی جانب سے بھی تصدیق کی گئی ہے کہ آئی ٹی سسٹم میں کسی بھی قسم کا کوئی تکنیکی مسئلہ نہیں ہے ۔ چیف جسٹس نے ان خیالات کا اظہار میڈیا نمائندوں کے ساتھ غیر رسمی گفتگو میں کیا، اس موقع پر رجسٹرار سید خورشید انور رضوی، ڈی جی ڈسٹرکٹ جوڈیشری محمد اکمل خان اور ایڈیشنل رجسٹرار آئی ٹی جمال احمد بھی موجود تھے۔چیف جسٹس نے کہا کہ کسی بھی نئے نظام کے پیرامیٹرز کو سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے، یہ سمارٹ فونز کا زمانہ ہے، پوری دنیا میں ڈیجیٹل سسٹم ہیں ہمیں بھی دنیا سے قدم سے قدم ملا کر چلنا ہے۔ چیف جسٹس نے وکلاء سے کہا کہ سسٹم کو سمجھنے کے لئے ہم سے تعاون کریں، اگر ہم نئے نظام کی ضروریات کو نہیں سمجھیں گے تو مسائل جنم لیتے رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ میں زیر التواء تمام مقدمات کے فزیکل آڈٹ کے بعد ان کی کیٹیگریزی بنائی گئی ہیں اور ہر کیٹیگری کے مقدمات کے مطابق ڈاکٹس بنائے گئے اور خصوصی بنچز تشکیل دئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اب کاز لسٹ بنچ وائز جاری کی جا رہی ہیں، سول، فوجداری، رٹ، فیملی اور رینٹ مقدمات کے ڈاکٹس کے حساب سے بنچز تشکیل دئے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک فاضل جج کے چھٹی پر جانے سے ڈاکٹ فریز ہو جائے گا اور مقدمات کی سماعت نہیں ہو گی تاہم اہم نوعیت کے مقدمات کے لئے جلد سماعت کی درخواست دی جا سکے گی، اسی طرح جج صاحب کے ایک سے زیادہ چھٹیوں پر جانے کی صورت میں حبس بے جا، ضمانتوں اور سسپنشن سے متعلق درخواستوں کو عدالت عالیہ کی انتظامیہ خود بخود دیگر فاضل ججز کے بنچز میں تقسیم کر دے گی۔ چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے وکلاء کے لئے شروع کئے جانے والے ایک اور انقلابی اقدام کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ پرانے سسٹم کے تحت ماہانہ، ہفتہ وار اور روزانہ کی بنیاد پر کاز لسٹ کے پرنٹ شائع کئے جاتے تھے، جس سے ہزاروں کی تعداد میں صفحات کا ضیاع ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ موبائل ایپ پر وکلاء پورٹل بنایا گیا ہے، وکلاء اپنا شناختی کارڈ اور موبائل نمبر داخل کر کے اپنے مقدمات سے متعلقہ کاز لسٹ حاصل کر سکتے ہیں اور جن وکلاء کے پرانے موبائل نمبر درج ہیں یا ان کے شناختی کارڈ و موبائل نمبرلاہور ہائی کورٹ میں رجسٹرڈ نہیں ہیں وہ اپنے شناختی کارڈ یا موبائل نمبر کا اندراج کروا کر اس سہولت سے مستفید ہو سکتے ہیں، اس کے ساتھ وکلاء کو بذریعہ ایس ایم ایس بھی ان کے مقدمات کی کاز لسٹ بھیجی جا رہی ہے۔ فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ اگر اس کے باوجود کسی معزز وکیل کو اپنے مقدمات کی کاز لسٹ موصول نہیں ہوتی تو وہ "کیس (سپیس) اپنا موبائل یا شناختی کارڈنمبر" لکھ کر 8050 ایس ایم ایس کریں تو ان کے مقدمات سے متعلق میسج موصول ہو جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ فی الحال تو کاز لسٹس کی پرنٹنگ کا عمل جاری ہے لیکن بہت جلد تمام وکلاء کے تعاون سے کاز لسٹوں کی پرنٹنگ کا عمل بھی ختم کر دیا جائے گا اور اس کے ساتھ ساتھ سائلین کو بھی بذریعہ ایس ایم ایس ان کے مقدمات سے متعلق معلومات فراہم کی جائیں گی۔ چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے بتایا کہ آئی ٹی سسٹم کے مکمل فعال نہ ہونے کا تاثر بالکل غلط ہے، آئی ٹی سسٹم ایک سافٹ ویئر ہے جو جوڈیشل سیکشن کی ہدایات کے مطابق کام
کرتا ہے، اگر کسی معزز وکیل یا سائلین کو مقدمات سے متعلق کسی پریشانی کا سامنا ہو تو وہ آئی ٹی سیکشن جانے کی بجائے ایڈیشنل رجسٹرار (جوڈیشل) سید شبیر شاہ سے رابطہ کریں، اگر ان کی سطح پر معاملہ حل نہیں ہوتا تو رجسٹرار سید خورشید انور رضوی سے بات کریں، مزید شکایات کے لئے جسٹس علی اکبر قریشی کی سربراہی میں کمیٹی قائم ہے، جس کو تحریری درخواست دی جا سکتی ہے، انسانی غلطی کے عنصر کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، تاہم کسی بھی شکایت کو ایک دن میں حل کر دیا جائے گا، مزید برآں لاہور ہائی کورٹ کے انفارمیشن کیاسک، ارجنٹ سیل اور دیگر جوڈیشل برانچز میں بھی انفارمیشن ڈیسک قائم کر دئے گئے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں آگے بڑھنے کےلئے بار کے تعاون کی ضرورت ہے، سسٹم میں چند مقدمات سے متعلق چیدہ چیدہ مسائل ہو سکتے ہیں، جن کی نشاندہی بہت ضروری ہے، لیکن پورے سسٹم کو غیر فعال کہنا درست نہیں، وکلاء قیادت ہمارے ساتھ بیٹھے، ہم آئی ٹی سسٹم سے متعلق تمام تحفظات کو دور کرنے اور اس کے پیرامیٹرز کو سمجھانے کے لئے ہر وقت تیار ہیں، انٹرپرائز آئی ٹی سسٹم لاہور ہائی کورٹ اور ہماری آئندہ نسلوں کے مستقبل کا ضامن ہے۔ ہمارے لئے باعث فخر و اعزاز ہے کہ پاکستان میں پہلی بار یہ سسٹم لاہور ہائی کورٹ میں شروع کیا گیا ہے، جسے اب پاکستان کی دیگر اعلیٰ عدالتیں نافذ کرنا چاہتی ہیں، سپریم کورٹ کے ساتھ بھی انٹر پرائز آئی ٹی سسٹم کے حوالے سے رابطے جاری ہیں۔