اشاعت کے باوقار 30 سال

پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں

پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں

اسلام آباد: قومی اسمبلی کو بتایا گیاکہ ایران میں 25 پاکستانی قید ہیں ان کے خلاف منشیات سمگلنگ، غیر قانونی داخلہ ،جعلی پاسپورٹ کا استعمال ، اغوا، چوری اور قتل کے الزامات ہیں منشیات سمگلنگ کی سزا دس سال عمر قید یا سزائے موت بھی دی جا سکتی ہے، پارلیمانی سیکرٹری برائے وزارت اوورسیز پاکستانی سردار شفقت بلوچ نے اعتراف کیا کہ پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں ہیں اور وہاں پہ 3400 پاکستانی قید تھے جن میں سے 2200 کو رہا کروا لیا گیا اور ابھی 1200 قیدی رہتے ہیں جن کو رہا کروانے کے لئے کوششیں جاری ہیں ۔وفاقی وزیر برائے کامرس پرویز ملک نے کہا کہ یونان کے ساتھ پاکستان کی تجارت کا حجم کم ہوا ہے ، پہلے یہ 89.5 ملین امریکی ڈالر تھی جو کہ اب 72.3 ملین ڈالر ہے ، پاکستانی سوتی کپڑے ، چاول، کیمیاوی مصنوعات اور مصنوعی کپڑے سے یونان کی مارکیٹ میں اپنے قدم جمالئے ہیں ، ملکی ٹیکسٹائل انڈسٹری بحران کا شکار ہے ،جس کو بحران سے نکالنے کے لئے خصوصی پیکج بھی دیا گیا ہے ،جس کے تحت 9 ارب روپے کی رقم تقسیم کی گئی ہے اور باقی 6 ارب اور بھی تقسیم کریں گے ۔وہ پیر کوقومی اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے جوابات دے رہے تھے ۔انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹ کو بڑھانے کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں ،جس سے ملکی ایکسپورٹ میں خاطرخواہ اضافہ ہوگا، وزارت تجارتی اتاشیوں کی مجموعی کارکردگی کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیتی ہے، وزیر اعظم کی منظوری سے وزارت تجارت نے گزشتہ سال تجارتی افسران کی کارکردگی کی تحقیق کے لئے کلیدی کارکردگی اعتباریوں کی شکل میں سخت معیاربتایا گیا۔ ٹیکسٹائل کی زیادہ تر انڈسٹری ٹھیک ہے کچھ میں جو کہ نقصان میں جا رہی ہے جلد ٹیکسٹائل کے حوالے سے مشکلات سے باہر نکل جائیں گے ۔ایم کیو ایم رہنما رشید گوڈیل نے سوال کیا کہ حکومت ٹیکسٹائل کی بہتری کی بات کرتی ہے لیکن کراچی میں 1250 ایکڑ پر بنائی جانے والی ٹیکسٹائل سٹی جو کہ تکمیل کے آخری مراحل میں تھی بند کر دی گئی جس پر وفاقی وزیر پرویز ملک نے کہا کہ اس حوالے سے کوئی بھی انفارمیشن نہیں ہے ،ٹیکسٹائل پرحکومت کی جانب سے دئے جانے والے پیکج پر بھی اپوزیشن ممبران کی جانب سے شدید تنقید کی گئی پیکج کے بعد بہت ساری ٹیکسٹائل ملیں بند ہو گئی ہیں۔ پرویز ملک نے کہا کہ ٹیکسٹائل کی بہتری کے لئے 14 ارب روپے کا پیکج دیا گیا تھا جس میں سے 9 ارب روپے کی رقم تقسیم کر دی گئی تھی اور مزید 5 ارب روپے بھی تقسیم کئے جائیں گے تاکہ انڈسٹری کی بحالی ممکن ہو سکے ۔ ایکسپورٹ سے قیمتیں نہیں بڑھتی ہیں کچھ ممالک میں گوشت ایکسپورٹ کیا جا رہا ہے جس کے مثبت نتائج حاصل ہو رہے ہیں، پوری دنیا میں ٹریڈ افسران موجود نہیں ہیں، صرف 50 ممالک ایسے ہیں جن میں ٹریڈ افسران ہیں بیرون ممالک میں کام کرنے والے ٹریڈ افسران کو ٹریننگ کے بعد بھیجا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اور تنگ سطح پر پہنچ چکا ہے۔ وفاقی وزیر برائے قانون انصاف زاہدحامد نے ایوان کو بتایا کہ اوورسیز پاکتسانیوں کے لئے اقدامات وزارت خارجہ کی پہلی ترجیح ہے ،بیرون ملک پھنسے ہوئے پاکستانیوں کو نکالنے میں سب سے بڑا مسئلہ وہاں کے ممالک کے قوانین کو فالو کرتے ہوئے قانونی کارروائی کرنے اور قوانین کے مطابق ان لوگوں کو واپس لانا ہے ۔ممبر قومی اسمبلی مراد سعید نے کہا کہ ایوان میں سوالوں کے غلط جوابات دینے کی کوئی سزا ہے اگر ہے تو پھر اوورسیز پاکستانی وزارت کو سزادی جائے کیونکہ سوال کیا تھا کہ باہر ممالک میں کتنے پاکستانی جیلوں میں ہیں اورجواب آیا کہ کوئی بھی پاکستانی قید نہیں ہے، ڈیٹا موجود ہے 7000 پاکستانی جیلوں میں موجود ہیں اس حوالے سے وزارت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگ جاتا ہے جس پر سپیکر قومی اسمبلی نے وزارت کو احکامات جاری کئے کہ اس حوالے سے ڈیٹا کا جائزہ لے کر جو بھی جواب ہے وہ جمع کرایا جائے۔ ایران میں 25 قیدی ہیں جو کہ ڈرگ ٹریفکنگ، ڈکیتی اور قتل میں ملوث ہیں۔ وفاقی وزیر برائے سیفران عبد القادر بلوچ نے ایوان کو بتایا کہ فاٹا کی7 ایجنسیاں اور6 ایف آرز کے لئے پی ایس ڈی پی میں 24010 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں جس میں سے 20 فیصد 4802 ملین پہلی سہ ماہی میں جاری کر دئے گئے ہیں ، جس میں سے 549 ملین فاٹا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو دئے گئے ہیں ، فاٹا میں یونین سیٹوں کی کنسٹرکشن کا کام جلد مکمل کر لیا جائے گا۔ ڈاکٹر درشن نے کہا ملک میں وومن کرکٹ میں حصہ لینے والی بچیوں کی تعداد بہت کم ہے جس کی وجہ سے کارکردگی میں کوئی خاطرخواہ اضافہ نہیں ہو رہا،ٹیم کی بہتری کے لئے غیرملکی کوچ لائے جائیں تاکہ کسی کو سوال اٹھانے کا موقع نہ ملے بیرون ملک کھلینے والی تمام وومن کھلاڑیوں کو تحفظ فراہم کیا جاتا ہے اور ابھی تک کسی کھلاڑی سے کوئی شکایت نہیں ملی۔

loading...