اشاعت کے باوقار 30 سال

امریکی افغان امداد کو ڈیورنڈ لائن کی تسلیم سے مشروط کرنے کا مطالبہ

امریکی افغان امداد کو ڈیورنڈ لائن کی تسلیم سے مشروط کرنے کا مطالبہ

واشنگٹن: امریکی قانون ساز نے امریکا کی جانب سے افغانستان کو دی جانے والی امداد کو ڈیورنڈ لائن کی تسلیم سے مشروط کرنے کا مطالبہ کر دیا۔کیلی فورنیا سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ بریڈ شرمین نے جمعرات (7 ستمبر) کے روز جنوبی ایشیاء4 میں امریکا کا اثرو رسوخ قائم رکھنے کے لیے ہونے والی ایک سماعت میں افغانستان کی امداد کو مشروط کرنے کا مطالبہ کیا۔قانون ساز بریڈ شرمین عموماً پاکستان کی جانب سخت رویہ رکھتے ہیں جبکہ یہ پہلا موقع ہے جب خارجہ امور ہاؤس کی ذیلی کمیٹی میں کسی قانون ساز نے ایسی تجویز پیش کی۔اسی موقع پر ایک سینئر امریکی عہدے دار 151 اسسٹنٹ سیکریٹری آ اسٹیٹ برائے جنوبی و وسط ایشیائی امور ایلس ویلز نے پاکستان کو یاددہانی کرائی کہ افغانستان میں بھارت کا مفاد بھی اتنا ہی ’اصل اور قانونی‘ ہے جتنا کہ پاکستان کا مفاد۔قانون ساز بریڈ شیرمین نے اپنی تجویز کے ساتھ افغانستان میں بھارت کے بڑھتے اثرو رسوخ کے نتیجے میں پاکستان کے مفاد اورر خدشات پر بھی اظہار خیال کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجود سرحد 151 ڈیورنڈ لائن کو افغان حکومت کی جانب سے تسلیم نہیں کیا گیا ہے‘ بریڈ شیرمین نے وضاحت دی کہ ’مجھے اندازہ ہے کہ ایسا کرنا مشکل ہے، وہ کہیں گے ایسا نہ کریں لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب تک افغانستان ڈیورنڈ لائن کو تسلیم نہ کرکے پاکستانی علاقوں پر دعویٰ کرتا رہے گا، پاکستان کو شامل کرنا بہت مشکل ہوگا، اور ہمیں افغان طالبان پر کنٹرول کے لیے پاکستان کی ضرورت ہے‘۔واضح رہے کہ 2430 کلومیٹر طویل ڈیورنڈ لائن پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجود بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحد ہے جو 1896 میں قائم ہوئی تھی، تاہم افغانستان اسے تسلیم نہیں کرتا اور اکثر بھارت بھی افغانستان کے اس دعوے کی حمایت کرتا ہے۔

loading...