اشاعت کے باوقار 30 سال

پاکستان کے پانچویں ایٹمی بجلی گھر سی فور کا افتتاح

پاکستان کے پانچویں ایٹمی بجلی گھر سی فور کا افتتاح

چشمہ: وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے چشمہ میں 340 میگاواٹ بجلی کی پیداواری صلاحیت کے حامل پاکستان کے پانچویں ایٹمی بجلی گھر سی فور کا افتتاح کردیا۔افتتاحی تقریب سے خطاب کے موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 28 دسمبر 2016 کو آغاز کے تقریبا 8 ماہ بعد چشمہ یونٹ سی فور کا افتتاح میرے لیے باعث افتخار ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سی فور سے پہلے شروع ہونے والے تینوں یونٹس بہترین کام کر رہے ہیں اور جوہری توانائی پلانٹس سے سستی بجلی پیدا ہورہی ہے۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ چشمہ اور مظفرگڑھ میں جوہری توانائی کے مزید منصوبے لگائے جارہے ہیں، جو مکمل ہوکر ملک کو روشن اور ماحول کو صاف رکھیں گے۔ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ چینی حکومت اور عوام کی مدد کے بغیر یہ منصوبے مکمل نہیں ہوسکتے تھے۔ چشمہ ایٹمی بجلی منصوبے کے سی ون، سی ٹو اور سی تھری یونٹ بالترتیب 2000، 2011 اور 2013 سے کامیابی سے قومی گرڈ میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔دو بڑے ایٹمی بجلی گھر کے ٹو اور کے تھری کراچی کے قریب زیر تعمیر ہیں جو 2020 اور 2021 میں کام شروع کردیں گے، ان بجلی گھروں سے قومی گرڈ میں 2 ہزار دوسو میگاواٹ بجلی شامل کی جائے گی۔پاکستان کے تمام جوہری بجلی گھروں میں پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹر اتھارٹی کے طے کردہ حفاظتی اصولوں اور دیگر معاملات کا خیال رکھا جاتا ہے، یہ تمام اصول انٹرنیشنل اٹاملک انرجی ایجنسی کے طریقہ کار کے مطابق ہے۔چشمہ نیوکلیئر پاور کمپلیکس میں چشمہ- تھری اور چشمہ-فور ری-ایکٹرز کے معاہدے پر 2009 میں چینی کمپنی کے ساتھ دستخط کیے گئے تھے جس کے تحت ان منصوبوں نے بالترتیب 2016 اور 2017 تک کام کا آغاز کرنا تھا۔340 میگا واٹ کے حامل چشمہ-تھری اور چشمہ-فور پانی کے دباؤ سے چلنے والے ری ایکٹرز ہیں، 300 میگا واٹ کے حامل چشمہ 1 اور 2 بھی چین نے فراہم کیے تھے۔

loading...