اشاعت کے باوقار 30 سال

بھارتی فوج کا کشمیریوں پر بد ترین تشدد

بھارتی فوج کا کشمیریوں پر بد ترین تشدد

سری نگر / نئی دہلی: مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز نے ضلع پلوامہ کے علاقوں کریم آباد اور راجپورہ میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران نوجوانوں کو سخت زد و کوب کیا اور مکانوں ، دکانوں اور گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کی. بھارتی فوجیوں، سینٹرل ریزرو پولیس فورس اور اسپیشل آپریشن گروپ کے اہل کاروں نے رات 9 بجے کے قریب کریم آباد اور راجپورہ کو محاصرے میں لیا جس کے خلاف نوجوان احتجاج کے لیے سڑکوں پر آ گئے۔ قابض اہل کاروں نے نوجوانوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شدید شیلنگ اور ہوائی فائرنگ کی، مظاہرین اور قابض اہل کاروں کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ رات گئے تک جاری رہا، اس دوران قابض اہل کاروں نے گھروں میں گھس کر نوجوانوں کو سخت مار پیٹ کا نشانہ بنایا جب کہ گھریلو اشیا، دکانوں اور گاڑیوں کی بھی توڑ پھوڑ کی۔ دریں اثنا کل جماعتی حریت کانفرنس نے بھارتی تحقیقاتی ادارے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کی طرف سے افراد کو بے بنیاد مقدمات میں ملوث کرنے کی کارروائیوں کی شدید مذمت کی ہے،کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان نے بیان میں کہا کہ این آئی اے کی طرف سے حریت رہنماؤں، شبیر احمد شاہ، ایاز محمد اکبر، الطاف احمد شاہ، پیر سیف اللہ، نور محمد کلوال، راجا معراج الدین کلوال، نعیم احمد خان، ، فاروق احمد ڈار، شاہد الاسلام، ظہور احمد وٹالی، جاوید احمد بٹ اور کامران یوسف کی گرفتاری جب کہ ڈاکٹر نعیم گیلانی، ڈاکٹر نسیم گیلانی اور ایڈوکیٹ میاں عبدالقیوم کو مخصوص عدالت میں پیش ہونے کے سمن جاری کرنے کی کارروائی کالے قانون آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ کے نفاذ سے بھی زیادہ سنگین اقدام ہے۔ دوسری جانب کٹھ پتلی انتظامیہ نے حریت فورم کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق کو سرینگر میں گھر میں نظر بند کر دیا ہے، حریت رہنما اور جموں و کشمیر سالویشن موومنٹ کے چیئرمین ظفر اکبر بٹ شہید مقبوضہ کشمیر میں بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماؤں غلام نبی سمجھی اور آغا سید حسن الموسوی الصفوی کی اسلام آباد اور بڈگام میں رہائش گاہوں پر چھاپے مارے ،ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر میاں عبدالقیوم سے 7 گھنٹے تک تفتیش کی، این آئی اے نے میاں عبدالقیوم کو ان کے خلاف درج کیے گئے جھوٹے مقدمے کی تفتیش کے لیے نئی دہلی میں تحقیقاتی ادارے کے ہیڈ کوارٹرز میں طلب کیا تھا۔ علاوہ ازیں سرینگر میں گرینیڈ حملے میں 14 افراد زخمی ہو گئے،جب کہ ایک شخص زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق سرینگر کے جہانگیر چوک میں گرینیڈ حملے کا نشانہ قابض بھارتی سیکیورٹی اہل کاروں کی گاڑی تھی۔

loading...