اشاعت کے باوقار 30 سال

چین میں حاملہ خاتون کی خود کشی

چین میں حاملہ خاتون کی خود کشی

بیجنگ: چین میں ایک حاملہ خاتون کے درد زہ برداشت نہ کر پانے کے سبب خودکشی کرنے کے واقعے پر سوشل میڈیا پر سخت رد عمل ظاہر کیا جارہا ہے اور طبی حقوق سے متعلق ایک نئی بحث چھڑگئی ہے۔اطلاعات کے مطابق خاتون کے اہل خانہ نے آپریشن کے ذریعے بچے کی پیدائش کی اجازت نہیں دی تھی۔ یہ واقعہ 31 اگست کو شمالی صوبے شانزی میں پیش آیا تھا۔ 26 سالہ مذکورہ خاتون کا نام ما بتایا گیا ہے۔ وہ شدید درد زہ میں مبتلا تھیں اور گھر والے آپریشن کی اجازت نہیں دے رہے تھے۔ جب انھیں برداشت نہیں ہوا تو وہ ہسپتال کی کھڑکی سے نیچے کود گئیں جس میں وہ اور ان کا بچہ بھی چل بسے۔ یولن نمبر ون ہسپتال کے ایک ڈاکٹر ہو جنوئی نے مقامی اخبار 'چائنا اکنامک ڈیلی' کو بتایا کہ محترمہ ما 'دو بار وارڈ سے باہر گئیں اور اپنی فیملی کو بتایا کہ ان کا درد قابل برداشت نہیں ہے اور وہ آپریشن کے ذریعے بچے کی پیدائش چاہتی ہیں لیکن ان کی فیملی اس کے لیے تیار نہیں تھی اور اجازت نہیں دی۔'لیکن ان کے شوہر یان نے اس بات سے انکار کیا ہے۔ انھوں نے 'بیجنگ یوتھ ڈیلی' کو بتایا: ' ہم نے سیزیرین (آپریشن کے عمل) سے انکار نہیں کیا تھا۔'ہسپتال کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ محترمہ ما 41 ہفتوں کی حاملہ تھیں اور ڈاکٹروں نے فیصلہ تھا کہ چونکہ جنین کے سر کا فریم قدرے بڑا ہے اس لیے قدرتی طریقے سے ڈیلیوری خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔'ہسپتال کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں جب طبی عملے نے فیملی سے مشورہ کیا تو انھوں نے کہا کہ 'وہ اسے سمجھتے ہیں لیکن آپریشن کروانے سے انکار کر دیا اور کہا کہ انھیں نگرانی میں رکھا جائے۔'ہسپتال نے اپنے بیان میں اس بات کی وضاحت نہیں کی ہے کہ اہل خانہ کا مذکوہ خاتون سے کیا تعلق تھا۔ لیکن مسٹر یان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان کی اہلیہ درد کی حالت میں دو بار وارڈ سے باہر نکلی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس صورت حال نے انھیں بری طرح سے پریشان کر دیا تھا اور انھوں نے ڈاکٹر سے کہا تھا کہ وہ کسی ایسے شخص کو فوری طور پر تلاش کریں جو آپریشن کے عمل سے اچھی طرح واقف ہو۔ انھوں نے کہا کہ جب تک وہ فون پر اپنی بات ختم کر پاتے تب تک ان کی اہلیہ وہاں سے غائب ہو چکی تھیں۔ انھوں نے 'بیجنگ یوتھ ڈیلی' کو بتایا: 'اپنی بیوی کی عادات سے واقفیت کی بنیاد پر میں یہ نہیں سمجھتا کہ ان کا اتنا شدید رد عمل ہو سکتا تھا۔'چین میں قانون کے مطابق کسی بھی آپریشن سے پہلے طبی عملے کو اہل خانہ سے صلاح و مشورہ کرنا اور اجازت لینا ضروری ہوتا ہے۔ لیکن سوشل میڈیا پر لوگوں نے اس طرح کے سوالات اٹھائے ہیں کہ آخر محترمہ ما کو خود یہ فیصلہ کرنے کی اجازت کیوں نہیں دی گئی۔فریڈم ماریشیا لیون نے لکھا: 'ایک حاملہ خاتون اپنی حالت اچھی طرح سے جانتی ہے، تو پھر آخر صرف اس کا دستحظ ہی کافی کیوں نہیں ہے؟ ان کی اس پوسٹ کو تقریبا دس ہزار لوگوں نے لائیک کیا ہے۔ وؤلی لاؤتیاتو کا کہنا ہے: 'فیملی کو قاتل گردانا جانا چاہیے۔' ایک دوسرے صارف نے لکھا: 'انھیں اس کی سزا ملنی چاہیے۔ جن لنگ زیاؤ زیاؤ نے طنزیہ انداز میں لکھا: 'کتنی اچھی بات ہے کہ چین میں مریضوں کو اس بات کا اختیار نہیں ہے کہ وہ خود اپنا فیصلہ کر سکیں۔امن کے لیے نوبیل انعام یافتہ کار کن مرحوم لیو زیابو کو علاج کے لیے پیرول پر رہا تو کیا گیا تھا لیکن انھیں کینسر کے علاج کے لیے ملک سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی اور تب سے یہ پہلا موقع نہیں ہے جب چین میں اس طرح کی بحث ہو رہی ہو۔ چین میں آپریشن کے ذریعے بچوں کی پیدائش کا عمل پسند کیا جاتا رہا ہے اور لوگ اسے کم تکلیف دہ پیدائش کا عمل مانتے رہے ہیں۔ لیکن 2015 میں چین میں جب سے ایک بچے کی پالیسی کو ختم کیا گیا ہے تب سے اس سوچ میں بھی کافی تبدیل آ گئی ہے۔اب تو حکومت اور سرکاری میڈیا سبھی بڑے فعال طریقے سے یہ مہم چلا رہے کہ کہ دوسرے بچّے کی پیدائش کی کوشش ہونی چاہیے اور اس کے لیے خواتین کو آپریشن کے ذریعے بچے کی پیدائش سے بچنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔گذشتہ برس نیشنل ہیلتھ اینڈ فیملی پلاننگ کمیشن کے ماؤ قنان نے فائنانشیئل ٹائمز کو بتایا تھا کہ 'خواتین کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ وہ اپنے پہلے بچے کی پیدائش سیزیریئن چاہتی ہیں کہ نہیں کیونکہ اس سے ان کا دوبارہ حاملہ ہونے کا عمل متاثر ہو سکتا ہے۔آپریشن کے ذریعے پیدائش کا عمل تھوڑا پیچیدہ ہوتا ہے اور کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ ماں کی کوکھ متاٹر ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے دوبارہ حمل ٹھہرنے کا عمل مشکل ہو جاتا ہے۔

loading...