اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

چین کے ساحل کے پاس فیری ڈوب گئی

ٹرمپ کا ڈریمر پروگرام منسوخ کرنے کا اعلان

ٹرمپ کا ڈریمر پروگرام منسوخ کرنے کا اعلان

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نوجوان غیر قانونی تارکینِ وطن کو تحفظ دینے کے پروگرام 'ڈریمر' کو منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا ۔ جس کے بعد ملک بھر میں اس فیصلے کی شدید مذمت کی گئی ہے اور فیصلے کے خلاف مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔ڈریمر پروگرام سابق امریکی صدر براک اوباما نے متعارف کروایا تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس فیصلہ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ڈیفیرڈ ایکشن فار چائلڈ ہڈ ارائیولز یعنی 'ڈاکا' نامی پروگرام غیر آئینی ہے اور انھوں نے امید ظاہر کی کہ کانگریس چھ ماہ میں اس کا صحیح حل نکال لے گی۔ انھوں نے مزید کہا کہ 'تارکین وطن کے قوانین میں اصولی تبدیلیاں نہیں آ سکتیں جب تک کہ حکومتی انتظامیہ اپنی مرضی سے وفاق کے قوانین کو مسترد کریں۔واضح رہے کہ پانچ سال قبل سابق صدر اوباما نے ڈاکا پروگرام، جسے ڈریمرز کے نام سے بھی پہچانا جاتا ہے، کو کانگریس کی اجازت کے بغیر نافذ کر دیا تھا۔ اس پروگرام کے منسوخ ہونے سے تقریباً آٹھ لاکھ افراد کے متاثر ہونے کے اندیشہ ہے جن میں سے بیشتر کا تعلق لاطینی امریکی ممالک سے ہے۔اس فیصلہ کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے کیے جا رہے ہیں اور نیو یارک میں ٹرمپ ٹاور کے باہر ہونے والے مظاہرے میں پولیس نے درجن بھر افراد کو حراست میں لیا۔ ڈریمر پروگرام منسوخ ہونے پر سابق صدر اوباما نے اپنے فیس بک پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ 'غلط فیصلہ ہے'۔ صدر اوباما کے علاوہ تجارتی رہنماؤں، سیاست دانوں اور بڑی کمپنیز نے بھی اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے پروگرام منسوخ کرنے کے اعلان امریکہ کے اٹارنی جرنل جیف سیشنز نے کیا اور انھوں نے کہا کہ 'سابق صدر نے تارکین وطن کے بارے میں بنائے گئے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس پروگرام کو نافذ کیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے گذشتہ سال صدارتی انتخابی مہم کے دوران تارکین وطن کے خلاف سخت رویہ اختیار کیا تھا اور وعدہ کیا تھا کہ منتخب ہونے کی صورت میں وہ ڈاکا کو ختم کر دیں گے۔ اس فیصلے کے بعد جاری کیے گئے بیان میں انھوں نے کہا کہ 'میں بچوں کو ان کے والدین کے کیے کی سزا دینے کا قائل نہیں ہوں لیکن ہمیں بطور قوم یہ سمجھنا چاہیے کہ امریکہ مواقعوں کا ملک اس لیے ہے کیونکہ اس ملک میں قانون کی پاسداری ہوتی ہے۔'صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ وہ کانگریس میں ریپبلیکن پارٹی اور ڈیموکریٹ پارٹی کے اراکین کے ساتھ مل کر 'تارکین وطن کے قوانین کو از سر نو ترتیب دیں گے جس کی مدد سے محنتی امریکی شہریوں کو ترجیح دی جائے گی۔'سابق صدر اوباما نے فیس بک پر لکھا کہ 'ان نوجوانوں کو نشانہ بنانا غلط ہے کیونکہ انھوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔میکسیکو کی حکومت نے بھی اس فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ اس پروگرام سے متاثر ہونے والے اپنے ان شہریوں کی سفارتی مدد کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔بی بی سی کے واشنگٹن میں نمائندے انتھونی زرچر کے مطابق کانگریس میں ڈاکا کے حمایتی اراکین کو مشکل پیش آسکتی ہے کیونکہ وہاں زیادہ تعداد تارکین وطن کے مخالفین کی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ کانگریس کے پاس پہلے ہی سمندری طوفان ہاروی کے بعد کی امدادی کارروائیاں، ٹیکس نظام کی تصیح جیسے کافی سنگین مسائل کا انبار لگا ہوا ہے۔ ڈریمر پروگرام سے مستفید ہونے والے افراد پر اگلے چھ ماہ تک کوئی فرق نہیں پڑے گا البتہ اب اس پروگرام کے لیے نئی درخواستیں نہیں دی جا سکیں گی۔

loading...