اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

آٹھواں سیارہ دریافت ہوا

انرجی سیورز نے عوام پر مالی بوجھ بڑھا دیا

انرجی سیورز نے عوام پر مالی بوجھ بڑھا دیا

فیصل آباد: چین سے درآمد کئے جانے والے زیادہ تر انرجی سیورز نے ملک میں بجلی کی کھیپ کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ لوگوں پر مالی بوجھ میں غیر معمولی اضافہ کیا ہے۔ فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر و صنعت کار زاہد اسلم نے انکشاف کیا ہے کہ چین سے آنے والے انرجی سیورز پر پر لکھا جاتا ہے کہ یہ 11 سے 23 واٹ کے ہیں مگر لیبارٹری ٹیسٹوں نے ثابت کیا ہے کہ یہ سب جھوٹ ہے اور ان میں سے زیادہ تر بلب 50 واٹ سے بھی زیادہ بجلی استعمال کرتے ہیں۔ جب کہ عام آدمی ان کی خرید پر زیادہ رقم خرچ کرنے کے باوجود بجلی کے بل کی مد میں بھی مسلسل اضافی رقم ادا کرتا رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ انرجی سیورز سمیت چین سے درآمد کی جانے والی تمام الیکٹرک مصنوعات کے معیار کی سختی سے جانچ پڑتال کرے اور صرف انہی مصنوعات کو درآمد کرنے اور ملک میں استعمال کرنے کی اجازت دے جو ان پر درج کردہ تصریحات کے عین مطابق ہوں انہوں نے حکومت پاکستان کے متعلقہ اداروں پر بھی زور دیا ہے کہ وہ ان آلات کی ٹیسٹنگ کے ایسے قابل اعتماد اور سستے آلات تیار کریں جو ہر کوئی بآسانی خرید سکے اور جس الیکٹرک مصنوعات کے بارے میں انہیں شبہ ہو کہ یہ غیر معیار ی ہے تو وہ اس کو خود ہی ٹیسٹ بھی کر سکے۔ اس طرح کے آلات الیکٹرک سٹورز پر بھی مہیا کئے جائیں تاکہ دوکاندار سے خریداری کے وقت ہی ان انرجی سیورز اور اس طرح کی دیگر اشیاء کے لئے استعمال کی جانے والی بجلی کا پتہ چل سکے۔