اشاعت کے باوقار 30 سال

تنہا اپنے گاؤں کے لیے تالاب کھودنے والا باہمت شخص

تنہا اپنے گاؤں کے لیے تالاب کھودنے والا باہمت شخص

چھتیس گڑھ: بھارتی ریاست چھتیس گڑھ کے ایک گاؤں سجا پہد میں عوام طویل عرصے سے قلتِ آب کا شکار ہیں جہاں خود انسانوں اور مویشیوں کے لیے پانی نایاب ہے۔ اس کمی کو دیکھتے ہوئے یہاں کے ایک نوجوان شیام لال نے بیلچہ اور پھاؤڑا اٹھا لیا اور خود گاؤں کے لیے تالاب بنانا شروع کردیا جس کی توسیع آج بھی جاری ہے۔
شیام لال نے 15 برس کی عمر سے کام شروع کیا اور قریبی جنگل میں بارش کا پانی جمع کرنے کے لیے تالاب بنانا شروع کر دیا تاکہ اس میں جمع ہونے والے پانی سے پورے گاؤں کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔ جب شیام لال نے دیہاتیوں سے مدد کا ہاتھ بڑھانے کو کہا کہ تو الٹا اس کا مذاق اڑایا گیا لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری اور خود اپنی مدد آپ کے تحت تالاب بنانا شروع کر دیا اور یہ سلسلہ گزشتہ 27 سال سے جاری ہے۔ اب شیام کی عمر 42 سال ہے لیکن ان کا بنایا ہوا گھڑا اب ایک ایکڑ چوڑا اور 15 فٹ گہرا ہو چکا ہے جس میں گاؤں کے لیے سب سے نایاب شے یعنی قابلِ نوش پانی موجود ہے۔ شیام لال کا کہنا ہے کہ اب ان کا خواب مکمل ہو چکا ہے اور پورا گاؤں یہ پانی استعمال کر رہا ہے۔
شیام کی کہانی اب پورے بھارت میں مقبول ہے اور سجا پہد کے ایک سرکاری نمائندے نے انہیں 10 ہزار روپے کا انعام بھی دیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اب لوگوں کی بڑی تعداد ان کی مدد کے لیے آگے بڑھ رہی ہے لیکن جب شیام تنہا تھا تو کسی نے اس کی مدد نہیں کی تھی۔ اب پانی کے تالاب سے گاؤں والوں کو بہت سہولت حاصل ہے اور انہیں پانی کے لیے دربدر پھرنا نہیں پڑتا۔

loading...