اشاعت کے باوقار 30 سال

پانچ کروڑ کیسے کمائے

 پانچ کروڑ کیسے کمائے

لاہور: پاکستانی نوجوان اپنے بے پناہ ٹیلنٹ سے آئے روز ایسے کارنامے سرانجام دے رہے ہیں کہ دنیا جس کی داد دئے بغیر نہیں رہ سکتی۔ شہر لاہور میں معروف تعلیمی ادارے کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے طالب علم عزیر بھی ایک ایسی ہی مثال ہیں کہ جنہوں نے زمانہ طالب علمی میں ہی کروڑوں روپے مالیت کی بین الاقوامی کمپنی قائم کر دی ہے۔
عزیر نے ایک ویب سائٹ کو حالیہ انٹرویو میں بتایا کہ ایم بی بی ایس میں داخلے سے پہلے ان کے پاس کچھ فارغ وقت تھا جسے وہ عموماً سو کر گزارتے تھے۔ ایک دن ان کی والدہ نے انہیں اپنے وقت کا مثبت استعمال کرنے کی تنبیہہ کی تو انہوں نے فری لانس کاروبار کے لئے مشہور ویب سائٹ elance پر تلاش شروع کی اور ترجمے کے کام کو اپنے لئے بہترین پایا۔ وہ کہتے ہیں کہ مقابلہ بہت سخت تھا لیکن انہوں نے کم معاوضہ طلب کیا اور بہترین کوالٹی کا کام شروع کر دیا۔ کچھ ہی عرصہ میں انہیں بہت زیادہ پراجیکٹ ملنے لگے لیکن انہوں نے کبھی بھی کوالٹی میں کمی نہ آنے دی۔ جب کام بہت زیادہ ملنے لگا تو انہوں نے دوست احباب کو شامل کر کے ایک کمپنی قائم کر لی جس کے لئے کام کرنے والے آج 30 ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اگرچہ وہ ابھی ایم بی بی ایس کے چوتھے سال میں ہیں لیکن ان کی دولت پانچ کروڑ روپے سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ محنت، ایمانداری اور صبر سے ہر منزل کا حصول ممکن ہے اور پاکستانی طالب علموں کو ان خوبیوں سے کام لیتے ہوئے فری لانسنگ پر بھرپور توجہ دینی چاہئے۔

loading...