اشاعت کے باوقار 30 سال

مرنے کے بعد بھی زندگی

مرنے کے بعد بھی زندگی

برلن: موت کے بعد جی اٹھنا ہمارے ایمان کا حصہ ہے لیکن غیر مذہبی لوگ اسے ممکن نہیں سمجھتے۔ جسم کی موت کے بعد روح زندہ رہتی ہے یا سب کچھ ختم ہو جاتا ہے یہ بحث اتنی ہی پرانی ہے جتنی کہ انسانی تاریخ، سائنس دان مدتوں سے اس سوال کا جواب تلاش کر رہے تھے اور بالآخر جرمنی کے ماہرین نفسیات اور تحقیق کاروں نے یہ دعوی کیا ہے کہ ان کے تجربات سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ موت کے بعد بھی زندگی جاری رہتی ہے اگرچہ اس کی نوعیت دنیا کی زندگی سے مختلف ہوتی ہے۔ یہ تجربات جرمن یونیورسٹی Technische Universitat میں کئے گئے اور ان میں 944 افراد نے رضاکارانہ طور پر شرکت کی۔ یہ تجربات کارڈیو پلمونری ریسی ٹیشن (CPR) نامی مشین کی ایجاد کے بعد ممکن ہوئے۔ تجربات میں شامل افراد کو ادویات کی مدد سے 20 منٹ کے لئے کلینیکی موت کی کیفیت میں پہنچایا گیا۔ یہ کیفیت ایسے ہی ہے جیسے کسی کی حقیقی موت واقع ہوجائے لیکن اس کی خاص بات یہ ہے کہ CPR مشین اور ادویات کی مدد سے دوبارہ زندگی بحال کی جا سکتی ہے۔ تجربات میں شامل سب افراد نے ملتے جلتے قریب المرگ تجربات بیان کئے جن میں اوپر اٹھ جانے، بہت سکون اور راحت محسوس ہونے اور جسم مردہ ہونے کے باوجود سب احوال کا مشاہدہ کرسکنے کی کیفیات شامل ہیں۔
تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر برتھولڈ ایکرمین کا کہنا ہے کہ سب شرکاء نے بتایا کہ ان کا جسم مردہ ہونے کے باوجود وہ ہر چیز کا مشاہدہ کرسکتے تھے اور لطیف قسم کے احساسات کا تجربہ کر سکتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان تجربات نے ثابت کر دیا ہے کہ جسم مردہ ہونے سے زندگی کا اختتام نہیں ہوتا بلکہ انسان ایک لطیف حالت اور کیفیت میں چلا جاتا ہے اور ایک اور زندگی کا آغاز ہو جاتا ہے۔ ان تجربات سے گزرنے والے ہندوﺅں، عیسائیوں، مسلمانوں اور لادینوں سب نے ایک ہی طرح کے احساسات بیان کئے۔

loading...