اشاعت کے باوقار 30 سال

مجھے کیوں نکالا (۲)

مجھے کیوں نکالا (۲)

سابق وزیر اعظم کا ریلی کے دوران کہا گیا ایک جملہ ضرب المثل کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ ہمارے بہت سے اہل قلم نے اس پر طبع آزمائی کی ہے۔ ہم یہ نگارشات مجھے کیوں نکال کے عنوان سے ہی پیش کرتے رہیں گے۔ پڑھئے اور سر دھنئے۔ ہماری یہ پیشکش محترمہ عرشی ملک صاحبہ کے زور قلم کا نتیجہ ہے

عدالت کی ناؤ کے اے نا خداؤ
قسم ایک معصوم کی کچھ بتاؤ
خدارا ذرا کھول دو چُپ کا تالا
مجھے کیوں نکالا؟ مجھے کیوں نکالا؟

ہر اک ہم وطن سے یہی پوچھتا ہوں
میں سڑکوں پہ شام و سحر گھومتا ہوں
کہاں دال میں تم نے دیکھا ہے کالا؟
مجھے کیوں نکالا؟ مجھے کیوں نکالا؟

ترقی مرے دیس کی رُک گئی ہے
اسی غم میں گردن مری جُھک گئی ہے
اچانک ہوا ہے یہ گڑبڑ گھٹالا
مجھے کیوں نکالا؟ مجھے کیوں نکالا؟

مسائل سبھی میں نے نمٹا دئیے تھے
"چمک" سے ادارے بھی بہلا دئیے تھے
معیشت کو بھی دے دیا تھا سنبھالا
مجھے کیوں نکالا؟ مجھے کیوں نکالا؟

مجھے حوصلہ دو مرے پاس آؤ
مرے ووٹرو مجھ کو کچھ تو بتاؤ
مجھے جیتے جی کس نے ہے مار ڈالا
مجھے کیوں نکالا؟ مجھے کیوں نکالا؟

چَنا ہوں میں آہن کا ،مت بھول جاؤ
جو ہمت ہے تم میں چبا کر دکھاؤ
سمجھنا نہ ہرگز ،مجھے تَر نوالہ
مجھے کیوں نکالا؟ مجھے کیوں نکالا؟

نہیں لی جو بیٹے سے تنخواہ تو کیا ہے؟
تمہیں اس مروت کی تکلیف کیا ہے؟
کرپشن کا دو ، گر ہے کوئی حوالہ؟
مجھے کیوں نکالا؟مجھے کیوں نکالا؟

کیا تخت کو ایک لمحے میں تختہ
دکھایا ہے کیسا یہ دن میرے بختا
کہاں سے اقامہ نکل آیا سالا
مجھے کیوں نکالا؟مجھے کیوں نکالا؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

loading...