اشاعت کے باوقار 30 سال

دنیا کی بلند ترین عمارت بنانے کا منصوبہ

دنیا کی بلند ترین عمارت بنانے کا منصوبہ

کراچی: بلند سے بلند تر عمارتیں تعمیر کرنا ہمیشہ سے انسان کا خواب رہا ہے تاکہ وہ اونچے پہاڑوں کو بھی شکست دے سکے اور اپنی ایجاد کردہ ٹیکنالوجی کی برتری ثابت کر سکے لیکن اب تک ایسا ممکن نہیں ہو سکا ہے۔ تو کیا مستقبل میں ایسا ہو سکے گا؟ کیا ہم پہاڑوں سے بھی اونچی عمارتیں بنا سکیں گے؟ موجودہ ٹیکنالوجی کو مدنظر رکھا جائے تو اس کا جواب جزوی طور پر ’’ہاں‘‘ میں ملتا ہے کیونکہ شاید ہم اتنی بلند عمارتیں ضرور بنالیں جو اوسط بلندی والے کسی پہاڑ سے زیادہ اونچی ہوں لیکن ماؤنٹ ایورسٹ یا کے ٹو جیسے عظیم الشان پہاڑوں کی بلندیوں کو شکست دینا ہماری موجودہ تعمیراتی ٹیکنالوجی کے بس سے باہر ہے۔
تاریخ کی بات کریں تو پتا چلتا ہے کہ غزا کا عظیم ہرم (گریٹ پیرامڈ) اپنی 146 میٹر بلندی کے ساتھ تقریباً 3900 سال تک دنیا کی بلند ترین عمارت کے درجے پر فائز رہا۔ برطانیہ میں تعمیر کیے گئے لنکن کیتھڈرل نے بالآخر 1311 عیسوی میں اپنی 160 میٹر اونچائی کے ساتھ دنیا کی بلند ترین عمارت کا اعزاز حاصل کر لیا۔ انیسویں اور بیسویں صدی عیسوی میں اونچی سے اونچی عمارتیں بنانے کا رواج زور پکڑنے لگا جس نے اکیسویں صدی کی آمد پر اور بھی زیادہ شدت اختیار کر لی۔ قصہ مختصر یہ کہ اس وقت دنیا کی بلند ترین عمارت ’’برج خلیفہ‘‘ ہے جو دبئی میں تعمیر کی گئی ہے اور اس کی اونچائی 830 میٹر (یعنی 2722 فٹ) ہے۔ فی الحال یہ تو نہیں بتایا جا سکتا کہ برج خلیفہ کتنے سال تک دنیا کی بلند ترین عمارت رہے گا لیکن اتنا ضرور معلوم ہے کہ اس سے بھی زیادہ طویل عمارتوں کے منصوبے بن چکے ہیں اور انہیں عملی جامہ پہنانے کی تیاریاں بھی جاری ہیں۔
ایک اوردو کلومیٹر اونچی عمارتوں کے منصوبے بھی اس وقت ڈرائنگ بورڈ پر ہیں لیکن شاید انسانی تاریخ میں ممکنہ طور پر سب سے بلند عمارت 4000 میٹر بلند ہوگی جسے ’’ایکس سیڈ 4000‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ موجودہ تعمیراتی ٹیکنالوجی کی مدد سے ہم شاید اس سے اونچی عمارت نہ بناسکیں گے۔ یعنی اس سے بھی بلند عمارت تعمیر کرنے کےلیے ہمیں آج کے مقابلے میں کہیں زیادہ جدید اور مختلف ٹیکنالوجی درکار ہوگ ی۔
اگرچہ یہ منصوبہ بھی اب تک صرف ڈرائنگ بورڈ تک محدود ہے لیکن اس کی تفصیلات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک عمارت اپنے رقبے میں ویٹیکن شہر سے بھی بڑی ہو گی جس کی بنیادوں کی چوڑائی 6 کلو میٹر ہو گی۔ کسی مخروطی مینار کی طرح یہ عمارت جیسے جیسے بلند ہو گی ویسے ویسے مختصر ہوتی جائے گی۔ یہاں دس لاکھ سے زیادہ افراد رہ سکیں گے۔ اندازہ ہے کہ اس کی تعمیر پر 1400 ارب ڈالر خرچ ہوں گے اور فی الحال کسی کنسورشیم تو کیا کثیر ملکی اتحاد کے پاس بھی صرف ایک عمارت کی تعمیر کےلیے اتنی رقم نہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ یہ کب اور کہاں تعمیر کی جائے گی لیکن اتنا ضرور ہے کہ یہ ارد گرد کے ماحول اور موسم پر لازماً اثر انداز ہوگی کیونکہ چار کلومیٹر اونچائی اسے بادلوں سے بھی زیادہ بلند کر دے گی اور مشہور جاپانی پہاڑ ’’فیوجی‘‘ بھی اس سے کچھ چھوٹا دکھائی دے گا۔ البتہ اس کی اونچائی پھر بھی ماؤنٹ ایورسٹ کے مقابلے میں صرف 45 فیصد یعنی آدھے سے بھی کم ہو گی۔
ایکس سیڈ 4000 کا منصوبہ بلاشبہ انجینئرنگ کی تاریخ میں عظیم ترین منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے لیکن ایک جانب تو یہ ابھی تک صرف ایک خیال کی صورت میں ہے۔ اگر اس نے حقیقت کا رُوپ دھار بھی لیا تب بھی اس سے واضح ہوتا ہے کہ قدرت پر بازی لے جانا ہمارے بس میں نہیں ہو گا۔ قدرت کو چیلنج کرنے کے لیے ہمیں اسی کے کچھ اور رازوں سے پردہ اٹھانا پڑے گا؛ اور ہم خود بھی نہیں جانتے کہ وہ راز کیا ہیں۔

loading...