اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

جونز ٹاؤن میں اجتماعی خود کشی

مجھے کیوں نکالا (۱)

سابق وزیر اعظم کا ریلی کے دوران کہا گیا ایک جملہ ضرب المثل کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ ہمارے بہت سے اہل قلم نے اس پر طبع آزمائی کی ہے۔ ہم یہ نگارشات مجھے کیوں نکال کے عنوان سے ہی پیش کرتے رہیں گے۔ پڑھئے اور سر دھنئے۔ ہماری پہلی پیشکش مرزا رضی الرحمٰن صاحب کے زور قلم کا نتیجہ ہے

آپ نے اپنے ہاتھوں سے پالا مجھے
دے کے خود مسند شاہ بالا مجھے
تین عشروں تلک کی میری پرورش
یعنی سمجھا ہتھیلی کا چھالا مجھے
کیوں نکالا مجھے، کیوں نکالا مجھے

آپ کے ہاتھ کا تو بٹیرا تھا میں
آپ کو علم تھا کہ لٹیرا تھا میں
ہے گلہ تہی مجھے تو اسی بات کا
کھانے کیوں نہ دیا تر نوالہ مجھے
کیوں نکالا مجھے، کیوں نکالا مجھے

اہل دانش سے مجھ کو حقارت رہی
سو بصیرت رہی نہ بصارت رہی
لگ رہا ہے مسلسل یہ جی ایچ کیو
بنی گالہ مجھے، بنی گالہ مجھے
کیوں نکالا مجھے ، کیوں نکالا مجھے

پہلے تقسیم تھی دو کی اور تین کی
پھر تو پانچوں نے ووٹوں کی توہین کی
کوئی سازش ہوئی ہے یقیناً کہیں
کچھ تو لگتا ہے گڑبڑ گھٹالا مجھے
کیوں نکالا مجھے، کیوں نکالا مجھے

جو بھی ہونا ہو تم ہونے دیتے نہیں
مارتے بھی ہو اور رونے دیتے نہیں
روؤں دھوؤں نہ میں تو بھلا کیا کروں
رو کے ھرنا ہیاب ہیڈ مرالہ مجھےْ
کیوں نکالا مجھے، کیوں نکالا مجھے

سارے شہروں سے امید ہی اٹھ گئی
مجھ سے تو جیسے جیسے تقدیر ہی رُٹھ گئی
واسطہ جب میں دوں گا سری پائے کا
ووٹ ڈالے گا پھر گوجرانوالا مجھے
کیوں نکالا مجھے، کیوں نکالا مجھے

بات کرتا ہوں تو کرنے دیتے نہیں
رنگ مظلومیت بھرنے دیتے نہیں
اپنی معصومیت کا مجھے ظالمو
پڑھنے دیتے نہیں کیوں مقالہ مجھے
کیوں نکالا مجھے، کیوں نکالا مجھے

کیوں نکالا ہے کوئی بتاتا نہیں
کیا کیا جائے کوئی سجھاتا نہیں
جو بھئی ملتا ہے بس پوچھتا ہوں یہی
والیئم ٹین میں کیا ہے دکھا لا مجھے
کیوں نکالا مجھے کیوں نکالا مجھے

میرے چاروں طرف یہ جو تابوت ہیں
میرے اپنے ہی بچوں کے کرتوت ہیں
جیتے جی سب نے ہی مار ڈالا مجھے
کیوں نکالا مجھے، کیوں نکالا مجھے

جاؤ بھی اب مری جان بھی چھوڑ دو
جھوٹ کی ہنڈیا بازار میں پوڑ دو
جھوٹ سے اب زباں لڑکھڑانے لگی
جھوٹ کا مت اوڑھاؤ دوشالا مجھے
کیوں نکالا مجھے کیوں نکالا مجھے

loading...