اشاعت کے باوقار 30 سال

ایران کے ساتھ جہازوں کی ڈیل منسوخ کرنے کا مطالبہ

ایران کے ساتھ جہازوں کی ڈیل منسوخ کرنے کا مطالبہ

واشنگٹن: امریکی سینٹ کے کئی ارکان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ سابقہ دورحکومت میں ایران کو مسافر طیاروں کی فروخت کی طے پائی ڈیل منسوخ کردیں۔ ارکان کانگریس کا کہنا ہے کہ ایران سول مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے جہازوں اور مسافر بردار طیاروں کو بھی جنگی مقاصد کے لیے استعمال کررہا ہے۔ عرب خبررساں ادارے کے مطابق امریکی کانگریس کے ارکان کا کہنا ہے کہ ایران مسافر طیاروں کے ذریعے اپنے جنگجو اور اسلحہ شام میں صدر بشارالاسد کی مدد کے لیے بھیج رہا ہے۔ریڈیو وائس آف امریکا کی رپورٹ کے مطابق امریکی سینٹ کے ارکان نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ سول مقاصد کے لیے مختص طیاروں کو غیرقانونی طور پر فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی ایرانی سرگرمیوں کی تحقیقات کرے۔کانگریس کے چار ارکان پیٹر روسکام، انڈی پار، لیسل ڈن اور ڈورچر نے تصاویر اور دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ امریکی وزارت خزانہ کو ایک مکتوب ارسال کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سول مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے جہازوں کو فوجی اغراض کے لیے استعمال کرنا نہ صرف عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ ایران اور عالمی طاقتوں کیدرمیان طے پانے والے جوہری معاہدے کے بھی خلاف ہے۔ارکان کانگریس نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سابقہ حکومت کے دور میں ایران کو سول طیارے فروخت کرنے کی ڈیل منسوخ کردے کیونکہ ایران اس ڈیل کی شرائط پرعمل درآمد کرنے کے بجائے اس کی کھلم کھلا مخالفت کررہا ہے۔ادھر امریکی ویب سائیٹ ’واشنگٹن فری بیکن‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ایران اپنے مسافر طیاروں کے ذریعے پاسداران انقلاب کے زیرانتظام ملیشیا اوراسلحہ شام میں صدر بشارالاسد تک پہنچا رہا ہے۔ ایران کی اس طرح کی سرگرمیاں جوہری معاہدے کے خلاف ہیں۔ارکان کانگریس کا کہنا ہے کہ انہیں ایرانی طیاروں کے ذریعے جنگجو اور اسلحہ شام بھیجے جانے کی تازہ تصاویر موصول ہوئی ہیں۔ مسافر جہازوں کے ذریعے فوجی سامان یا جنگجو شام بھیجنا چھ عالمی طاقتوں اور تہران میں طے پائے جوہری معاہدے کی خلاف وزری ہیں۔امریکی اور مغربی ذرائع ابلاغ میں ایرانی مسافر ہوائی جہازوں کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کی خبریں نئی نہیں۔ اس طرح کی خبریں اس سے قبل بھی تواتر کے ساتھ آتی رہی ہیں۔چند ماہ قبل ذرائع ابلاغ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ ایران رات کی تاریکی میں مسافر جہازوں کے ذریعے اپنے جنگجو شام بھیج رہا ہے۔اخباری رپورٹس کے مطابق دو سال قبل جب پاسداران انقلاب کے ایک سینیر جنرل حسین ھمدانی شام کے حما شہر میں ہلاک ہوئے اس کے بعد ایران زمینی راستے سے شام جنگجو بھیجنے سے اجتناب کررہا ہے۔ اب رات کی تاریکی میں ہوائی جہاز شام بھیجے جاتے ہیں۔گذشتہ اگست کے بعد ایران نے شام کو جنگجو اور اسلحہ کی فراہمی کی مقدار بڑھا دی تھی۔ شام بھیجے جانے والے افراد میں پاسداران انقلاب، بسیج فورس، فوج کی ایلیٹ یونٹوں کے اہلکار اور غیر سرکاری جنگجو شامل ہیں۔ نومبر 2015ء میں امریکا نے دہشت گردی کی معاونت جاری رکھنے اور اقوام متحدہ کی طرف سے شام میں فوجی مداخلت کے الزام میں ایران پر مزید دس سال تک اقتصادی پابندیاں عاید کی تھیں۔ مگر اس کے باوجود ایران شام میں فوجی مداخلت، اسلحہ کی فراہمی اور اسد رجیم کو جنگ کے لیے افرادی قوت کی فراہمی جاری رکھے ہوئے ہے۔

loading...