اشاعت کے باوقار 30 سال

بھارت میں فسادات، وفاقی اور ریاستی حکومتیں قابو پانے میں ناکام

بھارت میں فسادات، وفاقی اور ریاستی حکومتیں قابو پانے میں ناکام

نئی دہلی: بھارت کی ایک عدالت نے وفاقی حکومت اور ریاستی حکام کو ہریانہ کی شمالی ریاستوں اور پنجاب میں ہونے والے تشدد سے نمٹنے میں ناکامی پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ہریانہ اور پنجاب کی ہائی کورٹ نے ہفتہ کے روز کو ایک بیان میں کہا ہے کہ وفاقی اور ریاستی حکومتوں کا ردعمل 'سیاسی سرینڈر' کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ واضح رہے کہ انڈیا کے قصبے پنچکلا میں ایک خصوصی عدالت کی جانب سے ڈیرہ سچا سودا نامی تنظیم سے تعلق رکھنے والے گرو گرمیت رام رحیم کو جنسی زیادتی کے معاملے میں مجرم قرار دینے کے بعد کشیدگی پائی جاتی ہے۔ علاقے میں مزید تشدد کو روکنے لیے کچھ علاقوں میں فوج کو بھی تعینات کر دیا گیا ہے۔ انڈیا میں جمعے کو ایک عدالت نے گرو گرمیت رام رحیم کو جنسی زیادتی کے ایک معاملے میں مجرم قرار دیا تھا جس کے بعد سے پرتشدد ہنگاموں میں اب تک کم از کم 31 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ گرو گرمیت رام رحیم پر 15 برس پہلے دو خواتین کے ساتھ ریپ کا الزام تھا۔ ان کی سزا کا اعلان پیر کو کیا جائے گا۔ وزارت داخلہ کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ان واقعات میں اب تک تقریباً 31 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے جبکہ مقامی اخبارات نے یہ تعداد اس سے زیادہ بتائی ہے۔ بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز سمیت 250 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں جن کا مختلف ہسپتالوں میں علاج چل رہا ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق پولیس، نیم فوجی دستوں اور فوج نے مشترکہ طور پر ڈیرہ سچا سوا کے آشرم کا محاصرہ کر کے کارروائی کا آغاز کیا ہے۔ خبروں کے مطابق انتظامیہ کو اس بات کا خدشہ ہے کہ جب پیر کو عدالت گرو کو سزا سنائے گی تو مزید تشدد کا خطرہ ہے اس لیے ڈیرے میں موجود گرو کے تقریباً ایک لاکھ حامیوں کو وہاں سے نکالنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس سے قبل انتظامیہ نے لاؤڈ سپیکروں سے اعلان کیا تھا کہ ڈیرے میں موجود لوگ باہر نکل کر اپنے گھروں کو چلے جائیں لیکن اس کا کوئی اثر نہیں ہوا جس کے بعد کارروائی کا حکم دیا گیا ہے۔ اس دوران تشدد کے واقعات دہلی تک پہنچ گئے ہیں جہاں ہفتہ کی صبح گرو کے حامیوں نے سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا اور بسوں میں آتشزنی کے واقعات ہوئے ہیں۔ دہلی کی انتظامیہ نے کئی علاقوں میں دفعہ 144 کا اعلان کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ان جھڑپوں میں میڈیا کو بھی نشانہ بنایا گیا اور بعض ٹی وی چینلوں کی گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی۔ ان واقعات میں کئی صحافی زخمی ہوئے ہیں جبکہ بعض اب تک لاپتہ بتائے جا رہے ہیں۔ عدالت کے اس فیصلے سے ریاست ہریانہ اور پنجاب سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں جہاں کئی اضلاع میں کرفیو لگایا گیا ہے جبکہ دلی، اترپردیش اور راجستھان کے بھی کچھ علاقے اس کی زد میں ہیں۔ حکام نے ایسے کئی علاقوں میں ریڈ الرٹ جاری کیا ہے اور ایسے بیشتر مقامات پر دفعہ 144 نافذ ہے۔ اس سے قبل عدالتی فیصلے کے بعد فوجی اہلکاروں نے گرمیت رام رحیم کو حفاظتی تحویل میں لے لیا تھا جس کے بعد انھیں روہتک کی مقامی جیل منتقل کر دیا گیا تھا۔ انڈیا کے وزیر اعظم مودی نے ٹوئٹر کے پیغام میں کہا، ’میں نے قومی سلامتی کے مشیر اور ہوم سیکریٹری کے ساتھ حالات کا جائزہ لیا ہے۔ میں حکام سے اپیل کرتا ہوں کہ حالات معمول پر لانے کے لیے دن رات ایک کر دیں اور تمام ضروری مدد لوگوں تک پہنچائیں۔‘سب سے زیادہ ہلاکتیں پنچکلا میں ہوئی ہیں جہاں عدالت نے گرو گرمیت کو مجرم قرار دیا تھا۔حکام نے پنچکلا، فیروز پور، بھٹنڈہ اور مانسا میں کرفیو نافذ کر دیا ہے جبکہ فتح آباد اور فرید کوٹ میں ریڈ الرٹ کا اعلان کیا گیا ہے۔ پولیس نے مختلف علاقوں سے بہت سے لوگوں کو حراست میں بھی لیا ہے۔ بی بی سی کے مطابق فیصلہ آنے کے بعد گرمیت رام رحیم کے حامیوں نے گاڑیوں کے شیشے توڑ ڈالے اور سرکاری عمارتوں اور میڈیا کی گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ پنجاب اور ہریانہ دونوں ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ نے گرو گرمیت کے حامیوں سے امن اور امان برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔ کیپٹن امریندر سنگھ نے کہا ہے کہ 'ہم کسی کو ریاست میں ماحول خراب کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔' سکیورٹی اہلکاروں نے مشتعل افراد پر قابو پانے کے لیے آنسو گیس اور آبی توپ استعمال کی ہے۔ ادھر ڈیرہ سچا سودا کے ترجمان ڈاکٹر دلاور انشا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 'ہمارے ساتھ انصاف نہیں ہوا اور ہم اپیل کریں گے۔ ہمارے ساتھ ماضی میں بھی ایسا ہی ہوتا آیا ہے۔ ڈیرہ سچا سودا انسانیت کے فلاح کے لیے ہے۔ 'گرو گرمیت ایک سو گاڑیوں کے قافلے میں فیصلہ سننے کے لیے ہریانہ کے علاقے سرسا میں واقع اپنے آشرم سے عدالت آئے تھے۔ فیصلے سے قبل گرو گرمیت کے دو لاکھ سے زیادہ حامی پنچکلا پہنچے تھے جبکہ اس موقع پر حکومت نے پولیس اور فوج کے ہزاروں اہلکاروں کو امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تعینات کیا ہے۔

loading...