اشاعت کے باوقار 30 سال

انڈین گرو ریپ کا مجرم قرار، جھڑپوں میں 29 افراد ہلاک

چندی گڑھ: پنچ کلا کی عدالت نے روحانی پیشوا گرو گرمیت کو دو خواتین سے زیادتی کا مجرم قرار دیتے ہوئے جیسے ہی گرفتار کرنے کا حکم دیا بھارت کی کئی ریاستوں میں تشدد پھوٹ پڑے ہیں۔ دہلی، ہریانہ اور پنجاب سمیت متعدد مقامات پر تشدد کی خبریں ہیں۔ انڈین میڈیا رپورٹس کے مطابق اب تک انتیس افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جبکہ 250 افراد زخمی ہو کر ہسپتالوں میں پہنچ گئے ہیں۔ پنجاب کی حکومت نے سیکیورٹی کے پیش نظر پنجاب کے کئی شہروں میں ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے پولیس، انتظامیہ اور فوج کو بھی طلب کیا تھا لیکن صورتحال پر قابو پانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ پولیس کی جانب سے مظاہرین پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ رپورٹس ہیں کہ ان ہلاکتوں کے پیچھے بھی گرو گرمیت کے حامیوں کا ہاتھ ہے۔ اطلاعات ہیں کہ پرتشدد واقعات میں مشتعل افراد نے ٹرینوں، ریلوے سٹیشنز اور میڈیا گاڑیوں کو بھی نذر آتش کر دیا ہے۔ اس صورتحال میں چندی گڑھ ہائیکورٹ نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے گرو گرمیت رام کی تمام املاک اور جائیدادیں ضبط کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے اور کہا ہے کہ اس کے ذریعے ہونے والے نقصانات کی تلافی کی جائے۔خیال رہے کہ گرو گرمیت رام سنگھ کو 2002 میں اپنی دو بھگت خواتین سے زیادتی کے الزام میں مقدمے کا سامنا تھا۔ عدالت سے سزا کے بعد فوج نے روحانی پیشوا کو گرفتار کر کے چھانی منتقل کر دیا ہے۔ خبریں ہیں کہ گرمیت سنگھ کو 7 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

Indian protests after "godman" convicted of rape kill 29
loading...