اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

چین کے ساحل کے پاس فیری ڈوب گئی

برطانیہ میں پاکستانی اداکارہ نادیہ جمیل کو ہوٹل سے نکال دیا گیا

برطانیہ میں پاکستانی اداکارہ نادیہ جمیل کو ہوٹل سے نکال دیا گیا

پاکستانی اداکارہ نادیہ جمیل نے کہا ہے کہ برطانیہ میں مسلمان ہونا بھی جرم ٹھہرا ہے اور نسلی تعصب کے باعث ہمیں ہوٹل سے باہر نکالا گیا ، میرے والد کی داڑھی کی وجہ سے ہمیں ہوٹل میں کھانا نہیں دیا گیا ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق مشہور اداکارہ نادیہ جمیل کے ساتھ اندوہناک واقعہ پیش آیا جب انہیں اور ان کے والد کو ایک ہوٹل نے کھانے فراہم کرنے سے روک دیا ۔ اداکارہ کا کہنا تھا کہ ان کے والد کی داڑھی کی وجہ سے انہیں کھانا فراہم نہیں کیا گیا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اداکارہ نادیہ جمیل نے ٹوئٹس کے ذریعے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے والد کے ساتھ مرکزی مارکیٹ میں مشہور اٹالین ریسٹورنٹ ڈان پاسکل میں کھانا کھانے گئیں لیکن ہوٹل کے عملے نے انہیں باہر انتظار کرنے کو کہا۔ کچھ دیرانتظار کے بعد بھی کوئی ویٹر اُن سے کھانے کا آرڈر لینے نہیں آیا تو وہ خود ہوٹل میں گئیں۔ اس دوران میں اُن کے والد ہوٹل کے باہر میز پر بیٹھے رہے۔ نادیہ کا کہنا ہے کہ مینیو طلب کرنے پر ہوٹل کے عملے نے انتہائی بدتمیزی سے بات کرتے ہوئے نسلی امتیاز پر مبنی جملے ادا کئے۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ میرے والد کی داڑھی پر بھی طنزکرتے ہوئے مجھ سے انتہائی درشت لہجے میں بات کی گئی۔ اس موقع پر نادیہ جمیل نے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ ہماری خدمت کرنے سے ہچکچا رہے ہیں تو ہمیں بتا دیں لیکن نسلی امتیازی سلوک کرنا کسی بھی صورت مناسب نہیں ہے۔ بعد ازاں نادیہ اپنے والد کے ساتھ وہاں سے چلی گئی اور سارے واقعے کی تفصیل سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹوئیٹر پر اپ لوڈ کر دی۔ واضح رہے کہ نادیہ جمیل ان دنوں برطانیہ میں اپنے بزرگ والد کے علاج کیلئے موجود ہیں۔ نادیہ جمیل کے شائقین نے اس حرکت پر شدید غم و غصہ کا اظہار کیا ہے اور دوسری جانب شوبز سے وابستہ لوگوں نے بھی ڈان پاسکل ہوٹل کے اس نسلی امتیاز کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

loading...