اشاعت کے باوقار 30 سال

ماں کا دودھ بچے کے لیے بہترین اینٹی بایوٹکس کا خزانہ

ماں کا دودھ بچے کے لیے بہترین اینٹی بایوٹکس کا خزانہ

واشنگٹن: ماں کے دودھ کی افادیت مسلمہ ہے اور اب تازہ خبر یہ ہے کہ شیرِ مادر میں بعض شکریات یا کاربوہائیڈریٹس بیکٹیریا کو ختم کر کے بچے کو انفیکشنز اور بیماریوں سے محفوظ رکھتے ہیں۔ اں کا دودھ پروٹین، چکنائیوں اور شکر (کاربوہائیڈریٹس) کا ایک پیچیدہ مجموعہ ہوتا ہے۔ لیکن پہلی مرتبہ انسانی دودھ میں موجود کاربوہائیڈریٹس کی بیکٹیریا کے خلاف افادیت سامنے آئی ہے۔ امریکہ میں واقع وینڈربلٹ یونیورسٹی کے پروفیسر اسٹیون ٹاؤن سینڈ نے کہا ہے کہ دنیا میں سب سے مفید اور صاف اینٹی بایوٹک دوا ماں کے دودھ میں قدرتی طور پر موجود ہوتی ہے۔ اس تحقیق کا بنیادی محرک دنیا بھر میں جراثیم کے سامنے اینٹی بایوٹکس دواؤں کا بے اثر ہونا ہے اور اب بہترین اینٹی بایوٹکس کے سامنے جراثیم بہت سخت جاں واقع ہوئے ہیں۔ اسٹیون کے مطابق جب انہوں نے بیکٹیریا کو شکست دینے پر کام شروع کیا تو پہلے گروپ بی اسٹریپ بیکٹیریا پر غور شروع کیا۔ حاملہ خواتین پر یہ بیکٹیریا گروپ زیادہ حملہ آور ہوتا ہے اور پوری دنیا میں نومولود بچوں کے انفیکشنز میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ساتھ ہی ماہرین یہ دیکھنا بھی چاہتے تھے کہ آیا مائیں اپنے جسم میں ان بیکٹیریا کے خلاف کوئی قدرتی ہتھیار تیار کرتی ہیں یا نہیں؟ لیکن اس کےلیے ماں کے دودھ میں موجود پروٹین کی بجائے کاربوہائیڈریٹس کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ شیرِ مادر میں کاربوہائیڈریٹس پہلے بیکٹیریا کو تلاش کر کے کمزور کرتے ہیں اور بعد میں انہیں تباہ کر ڈالتے ہیں یعنی وہ دو طرح سے جراثیم کا شکار کرتے ہیں۔ ماہرین نے تجربہ گاہ میں یہ بھی دیکھا کہ ماں کے دودھ میں موجود ایک قسم کی شکر اولیگوسیکرائیڈز براہِ راست بھی بیکٹیریا کو ہلاک کرتی ہے لیکن بعض بیکٹیریا کی اوپری پرت توڑ کر انہیں ختم کرڈالتی ہے۔ یہاں تک کہ ایک جگہ اسٹریپ بیکٹیریا کی پوری کالونی کو براہِ راست ختم ہوتے دیکھا گیا۔ اس سے قبل کی گئی ایک اور تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ ماں کا دودھ بچوں کو فلو سے بچاتا ہے اور اس کی وجہ بھی غالباً یہی کاربوہائیڈریٹس ہو سکتے ہیں۔

loading...