اشاعت کے باوقار 30 سال

عید سے قبل تمام سیاسی نظر بندوں کی رہائی کا مطا لبہ

عید سے قبل تمام سیاسی نظر بندوں کی رہائی کا مطا لبہ

سرینگر: مقبوضہ کشمیرمیں کل جماعتی حریت کانفرنس نے عید سے قبل تمام سیاسی نظربندوں کی رہائی پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ سینکڑوں آزادی پسند کشمیری کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت غیر قانونی طور پر نظر بند ہیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق حریت کانفرنس کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ ڈاکٹر محمد قاسم، محمد شفیع شریعتی، غلام قادر بٹ سمیت پچاس کے قریب کشمیریوں کو جھوٹے الزامات کے تحت عمر قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں جو مختلف جیلوں میں نظر بند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے کے ذریعے کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے حریت رہنماؤں شبیر احمد شاہ، پیر سیف اللہ، الطاف احمد شاہ، شاہد الاسلام، ایاز اکبر، معراج الدین کلوال، نعیم احمد خان، فاروق احمد ڈار، دیویندر سنگھ بہل اور کئی تاجروں کو سرینگر سے اغوا کر کے نئی دلی کی تہاڑ جیل میں بے بنیاد الزام میں نظر بند کر رکھا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کی عوامی تحریک کے دوران ہزاروں کی تعداد میں آزادی پسندوں کو نظر بند کیا گیا تھا جن میں آج بھی تین سو کے قریب کشمیر کی مختلف جیلوں یا انٹروگیشن سینٹروں میں پابند سلاسل ہیں،ان میں سے بیشتر نظر بندوں پر عائد کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کو عدالتِ عالیہ نے اگرچہ کالعدم قرار دے دیا ہے تاہم انہیں رہا نہیں کیا جا رہا ہے ۔ حریت ترجمان نے کہا کہ انتظامیہ آزادی پسند قیادت اور نوجوانوں کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے اور انہیں ہر ممکن طریقے سے تنگ اور ہراساں کیا جا رہا ہے ۔انہوں نے آزادی پسند کارکن عمر عادل ڈار کو نوگام پولیس اسٹیشن سے سرینگر سینٹرل جیل منتقل کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان حربوں سے آزادی پسند کارکنوں کے عزم و ہمت میں کوئی کمی نہیں آ سکتی ہے۔ ترجمان نے انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ کشمیر کے سیاسی نظربندوں کی حالت زار کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ان کی رہائی کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی طورپر نظر بند حریت رہنماؤں مسرت عالم بٹ، آسیہ اندرابی، غلام محمد خان سوپوری، امیر حمزہ ، محمد یوسف لون، میر حفیظ اللہ، محمد یوسف فلاحی، عبدالغنی بٹ، رئیس احمد میر، فہمیدہ صوفی، محمد شکیل ایتو، محمد رفیق گنائی، عبدالاحد پرہ اور حکیم شوکت احمد سمیت سینکڑوں کشمیری حریت پسندوں کو غیر انسانی سلوک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جو انتہائی قابل مذمت ہے ۔حریت ترجمان نے شوپیان کے ایک طالب علم گوہر احمد ڈار اور کیبل آپریٹر ہلال احمد ملک کے بہیمانہ قتل پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان واقعات کی غیر جانبدار انہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ملوث افراد کو کڑی سے کڑی سزا دی جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جموں و کشمیر میں خوف و دہشت کا ماحول قائم کرنے کے لئے نا معلوم مسلح افراد کے نام پر ایک سوچھے سمجھے منصوبے کے تحت نہتے کشمیریوں کا خون بہایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات کے ذریعے یہ پتہ لگایا جانا چاہیے کہ کشمیریوں کی نسل کشیُ کے واقعات میں کون ملوث ہے ۔

loading...