اشاعت کے باوقار 30 سال

بجلی کا گردشی قرضہ 450 ارب روپے سے بھی تجاوز کر گیا

بجلی کا گردشی قرضہ 450 ارب روپے سے بھی تجاوز کر گیا

اسلام آباد: بجلی کا گردشی قرضہ 450 ارب روپے سے بھی تجاوز کرگیا، بجلی بنانے والی کمپنیوں سمیت دیگر ادارے شدید مالی بحران کا شکار ہیں، نئی وزارت بننے کے باوجود بھی بجلی بنانے والی کمپنی کو فنڈز جاری نہ ہو سکے جس کی وجہ سے ملک بھرمیں طویل غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے نئے دور کے آغاز کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق گردشی قرضہ کے حوالے سے حکومتی اعداد و شمار غلط ہیں،حکومت کے مطابق گردشی قرضہ 404 ارب روپے ہے لیکن وزارت پانی و بجلی ذرائع کے مطابق گردشی قرضہ 450 ارب روپے سے بھی تجاوز کر چکا ہے اگر کمپنیوں کو پیسے ادا نہ کئے تو 2018ء تک گردشی قرضہ 550 ارب روپے سے بھی تجاوز کرجائے گا جس کی وجہ سے ملک میں لوڈ شیڈنگ پر قابو پانا ممکن نہ ہو گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک میں بجلی کی قیمتیں بڑھائی گئی ہیں اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بھی 60 فیصد کم ہوئی ہیں لیکن اس کے باوجود بھی گردشی قرضہ 450 ارب روپے سے زائد ہے جو کہ 2013ء میں پیپلز پارٹی کی حکومت موجود گردشی قرضہ سے کہیں زیادہ ہے، حکومت نے برسر اقتدار آتے ہی 380 ارب روپے سے زائد کے واجبات ادا کئے تھے تاکہ لوڈ شیڈنگ پر قابو پایا جا سکے لیکن تاحال حکومت بجلی بحران پر قابو پانے میں بری طرح ناکام ہوئی ہے۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے اعلیٰ سطح اجلاس میں یہ واضح کیا کہ ملک کو توانائی بحران سے نکالنے اور بجلی بنانے والی کمپنیوں کی حالت بہتر بنانے کے لئے بروقت ادائیگیاں لازمی ہیں۔ دوسری جانب کے الیکٹرک اور پیسکو کے حالات ذرا مختلف ہیں،کے پی کے کی حکومت پہلے ہی ہائیڈل پاور کی مد میں اپنا منافع مانگ رہی ہے اور پیسکو حکام سسٹم کے کمزور اور بعض علاقوں میں ریکوریوں کا رونا رو رہے ہیں، کے الیکٹرک میں بھی گردشی قرضہ بڑھتا جا رہا ہے حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ لائن لاسز میں واضح کمی ہوئی ہے اور لائن لاسز 5 فیصد سے کم ہو کر ایک فیصد تک پہنچ گئے ہیں لیکن اس کے باوجود گردشی قرضہ پر قابو پانے میں بری طرح ناکام ہو گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک میں چند بڑے شہروں کے علوہ لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ کئی کئی گھنٹے تک بڑھا دیا گیا ہے، اگر لوڈ شیڈنگ نہ کی جائے تو گردشی قرضہ چند ماہ میں ہی ڈبل ہو جائے گا۔ 2015ء میں لوڈ شیڈنگ میں کمی لائی گئی لیکن اس کے ساتھ ہی گردشی قرضہ 583 ارب روپے سے بھی تجاوز کر گیا تھا جس کے بعد ایک طویل غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ شروع کرنا پڑا تاکہ قرضہ قرضہ کو کم کیا جا سکے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ حالیہ حکومت بحران کی وجہ سے بجلی کے نئے منصوبوں کو بھی نقصان پہنچے گا اور ان کو مکمل ہونے میں مزید چھ ماہ کی اضافی مدت لگ جائے گی جس کے تحت آئندہ انتخابات سے قبل لوڈشیڈنگ پر قابو پانا خواب ہی رہے گا۔

loading...