اشاعت کے باوقار 30 سال

پاکستان طبی کانفرنس پاکستان کے اطباء کے خلاف سازش کر رہی ہے

پاکستان طبی کانفرنس  پاکستان کے اطباء کے خلاف سازش کر رہی ہے

کراچی: قومی طبی کونسل کے سندھ سے تعلق رکھنے والے ممبران نے کراچی میں اطباء کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان طبی کانفرنس اور اس کی ذیلی تنظیم پی ٹی پی ایم اے پاکستان کے اطباء اور چھوٹے دواساز اداروں کے خلاف سازش کررہی ہے۔ بڑے ہربل دواساز اداروں کے مفادات کی خاطر پاکستان میں رائج پریکٹشنرز ایکٹ 1965ء کو ختم کر کے نیا یونانی آیورویدک ایکٹ 2017ء نافذ کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ جلسے میں ہمدرد یونیورسٹی کے ڈاکٹر خان عثمان غنی نے خصوصی شرکت کی ۔ حال ہی میں پاکستان طبی کانفرنس سے مستعفی ہونے والے ممبر قومی طبی کونسل حکیم نسیم احمد قاسمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس ایکٹ کے نفاذ سے طب، اطباء‘ چھوٹے دواساز ادارے اور طبی ادویات کا کاروبار کرنے والے بیروزگار ہو سکتے ہیں۔ اس لئے ہم پریکٹشنرز ایکٹ 1965ء کو ختم کرنے اور یونانی آیورویدک ایکٹ 2017ء کو نافذ کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ قومی طبی کونسل اپنے دوسالوں میں کوئی قابل ذکر کارکردگی نہیں دکھا سکی ہے۔ہم نے قرشی گروپ کا ساتھ صرف اس لئے دیا تھا کہ وہ طب یونانی کو آگے لے جانے میں مددکرے گا۔ لیکن طبی کونسل مخصوص دواساز اداروں کے مفادات کے لئے کام کر رہی ہے۔

loading...