اشاعت کے باوقار 30 سال

باسٹھ ٹریسٹھ کو آئین سے نکالنا ہے تو پھر جیلوں کے دروازے کھول دیں

باسٹھ ٹریسٹھ کو آئین سے نکالنا ہے تو پھر جیلوں کے دروازے کھول دیں

لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ اگر باسٹھ ٹریسٹھ کو آئین سے نکالنا ہے تو پھر جیلوں کے دروازے کھول دیں اور چوروں لٹیروں کو رہا کر دیں تاکہ سارے چور لفنگے حکومت کر سکیں۔ پارلیمنٹ میں کرپشن کو تحفظ دینے کے لیے نہیں، کرپشن اور کرپٹ سسٹم ختم کرنے کے لیے ڈائیلاگ ہونے چاہئیں۔ آئین کو فرد واحد کے مفادات کے لیے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ آئین کو اپنا تابع بنانے کی بجائے آئین کے تابع ہونے کی ضرورت ہے۔ آئین سے کھلواڑ کیا گیا تو قوم کا شیرازہ بکھر سکتا ہے اور صوبوں کو وفاق کے تحت رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ آئین توڑنے کی باتیں کرنے والے قومی وحدت کو پارہ پارہ کر نے پر تلے ہوئے ہیں اس سے انتشار پھیلنے کے علاوہ کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔ نواز شریف نے نااہلی کے بعد بھی درست راستہ اختیار نہیں کیا۔ وہ غرور اور تکبر کے گھوڑے پر سوار ہو گئے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں مختلف وفود سے ملاقات کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ نواز شریف نے اپنی نااہلی کے بعد توبہ کا راستہ اختیار کرنے اور اللہ سے معافی مانگنے کی بجائے آئین توڑنے کی باتیں شروع کر دی ہیں حالانکہ انہیں قوم سے معافی مانگنی چاہیے تھی۔ ملک میں کرپشن نے ایک وبا کی شکل اختیار کر لی ہے اور کرپشن میں اکثر وہ لوگ ملوث ہیں جو بڑے بڑے عہدوں پر فائز رہے۔ انہوں نے سرکاری عہدوں کو مال سمیٹنے کا ذریعہ بنایا۔ نواز شریف کرپٹ سسٹم کا سب سے موثر حصہ تھا ان کو سزا ملنے سے امید ہے کہ کرپشن میں کچھ کمی آئے گی اور چھوٹے چور اب بے خوف ہو کر قوم کا پیسہ نہیں لوٹ سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن صرف مالی نہیں معاشی، اخلاقی اور نظریاتی کرپشن بڑی بیماریاں ہیں اور جب حکمران ان بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں تو وہ قومی عزت و وقار کا سودا کرنے سے بھی باز نہیں آتے۔ آج ملک کو اس کی نظریاتی شناخت سے محروم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن جس قوم نے لاکھوں جانوں کا نذرانہ پیش کر کے کلمہ کی بنیاد پر یہ ملک حاصل کیا تھا، وہ ایسی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دے گی۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ نواز شریف کو صفائی کا جتنا موقع ملا ہے، شاید ہی کسی کو دیا گیا ہو۔ سیاست میں اداروں کی مداخلت کا رونا رونے والوں نے ملک میں حقیقی جمہوریت کو پنپنے کا موقع نہیں دیا اور جمہوریت کے نام پر خاندانی بادشاہتیں مسلط رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ حکمران پارٹی کو اداروں پر گلہ کرنے کی بجائے بہتری کی تجاویز لانی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی کوئی جرنیل آیا، ان کو ویلکم اور سپورٹ کرنے والے سیاستدان ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کسی ایک فرد یا چند افراد کے احتساب کی بات نہیں کرتی، ہم پہلے دن سے سب کے احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں اور ہماری سپریم کورٹ سے استدعا ہے کہ لوٹی گئی دولت کی واپسی کا جلد موثر نظام بنایا جائے اور فوری اقدامات کیے جائیں۔ کئی ممالک اپنی لوٹی گئی دولت باہر کے بینکوں سے واپس لے چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غربت، مہنگائی، بے روزگاری حکمرانوں کے تحفے ہیں۔

loading...