اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

آٹھواں سیارہ دریافت ہوا

سیمل راجہ نے میڈیا کو بشارت راجہ اور اپنا نکاح نامہ بھی دکھا دیا

سیمل راجہ نے میڈیا کو بشارت راجہ اور اپنا نکاح نامہ بھی دکھا دیا

لاہور: ق لیگ کی سابق رکن پنجاب اسمبلی سیمل راجہ نے میڈیا کے سامنے بشارت راجہ اور اپنا نکاح نامہ بھی دکھا کر راجہ بشارت کی منکوحہ ہونے کا آخری ثبوت بھی پیش کر دیا۔ انہوں نے کہا ہے کہ راجہ بشارت کی متعلقہ پری گل آغا جعلساز اور بلیک میلر ہے، اپنے جھوٹ کو چھپانے کے لئے عہدے داروں کو استعمال کر کے ق لیگ اور چودھری برادران کو بدنام کر رہی ہے، چودھری شجاعت اور پرویز الٰہی نوٹس لیں۔ سیمل راجہ نے کہا کہ پہلے بیورو کریٹس، پھر میڈیا اور اب عدلیہ کا غلط نام استعمال کر کے بلیک میل کر رہی ہے اور دوسری جانب قتل کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، کبھی خبریں چلائی جاتی ہیں کہ مجھے پانچ سال قید ہو گئی اور کبھی بیان جاری کیا جاتا ہے کہ میرے خلاف مقدمات درج ہیں، بشارت راجہ اور پر ی گل آغا سچے ہیں تو میڈیا کے سامنے مناظرے کا چیلنج قبول کیوں نہیں کرتے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ آگر بشارت راجہ نے اب بھی طلاق یافتہ پری گل آغا کو گھر سے نہ نکلا تو وفاقی محتسب اور متعقلہ تھانے میں ان کے خلاف حدود آرڈیننس کے تحت پر چہ درج کراؤں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ علمائے کرام اور دینی جماعتیں طلاق دینے کے باوجود خواتین کو گھروں میں رکھنے کے پروان چڑھتے ہوئے کلچر کے خلاف آواز بلند کریں۔ سیمل راجہ نے کہا کہ میں مسلسل ایک ماہ سے میڈیا کے سامنے بشارت راجہ سے اپنی شادی اور پری گل آغا کے طلاق کے ثبوت پیش کر چکی ہوں اس کے باوجود خواتین کی معاشی اور معاشرتی ترقی کے دعوے داروں کی جانب سے خاموشی سمجھ سے بالا تر ہے۔ سیمل راجہ نے کہا کہ بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر منتخب وزیر اعظم کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے تو پھر قوم کے بیٹوں کے گھر برباد کر نے والے سیاستدانوں کے خلاف عدلیہ ازخود نوٹس لینے سے کیوں گریزاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لئے مزید کتنی خواتین کے گھروں کے اجڑنے کا انتظار کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حیران ہوں خادم اعلیٰ بھی اس مسئلہ پر خاموش ہیں۔ سیمل راجہ نے کہا سپریم کورٹ جوڈیشل کمیشن بنا کر خواتین کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں کے خلاف ایکشن لے اور ملزمان کو عوامی نمائندگی کے لئے تاحیات نااہل قرار دے کر قرار واقعی سزا دے۔ انہوں نے کہا کہ دھمکیوں کے حوالے سے پولیس کو آگاہ کر نے کے باوجود سکیورٹی فراہم نہیں کی جا رہی، آئی جی پنجاب کب نوٹس لیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں ہی اسلامی قوانین کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کہ عورتوں سے متعلق تعلیم، آگاہی، میرٹ اور قانون کے ظا لمانہ اطلاق سے ہی ممکن ہے۔