اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

میری جبری رخصتی نہ عوام نے قبول کی نہ میں خود قبول کرتا ہوں

میری جبری رخصتی نہ عوام نے قبول کی نہ میں خود قبول کرتا ہوں

اسلام آباد : سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف نے 14اگست کو اپنا آئندہ کا لائحہ عمل دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پانامہ سے مقدمہ شروع ہوا اقامہ پر نکال دیا گیا، میری جبری رخصتی نہ عوام نے قبل کی نہ میں خود قبول کرتا ہوں۔ عوام نا اہلی کا فیصلہ تبدیل کرنے میں ساتھ دیں ملک کی تقدیر بدلیں گے۔ عوام کا جذبہ انقلاب کا پیش خیمہ ہے انقلاب نہ آیا تو ترقی ، خوشحالی نہیں آئے گی۔ میں اقتدار کیلئے نہیں عوام کی حکمرانی قائم کرنے کے لئے نکلاہوں، وزیر اعظم کو نا اہل ا ور ملک کی ترقی کو سبوتاژ کرنے والے یہ کون لوگ ہیں۔ان خیالات کا اظہار سابق وزیر اعظم نوازشریف نے اسلام آباد سے بذریعہ جی ٹی روڈ لاہور شروع ہونے والی ریلی کے چوتھے روز داتا دربار پر اپنے اختتامی خطا ب میں کیا ۔سابق وزیر اعظم نے لاہور پہنچے پر داتا دربار پر حاضری دی اور بعد میں کارکنوں کی ایک تعداد جو ان کے استقبال کے لئے جمع تھی ،سے خطاب کیا ۔ ا س
موقع پر نواز شریف نے کہا کہ میں آپ عوام کا کس منہ سے شکریہ ادا کروں آپ نے نواز شریف کو بہت پیار اور محبت دی۔ انہوں نے کہا کہ میری نا اہلی کا فیصلہ عوام نے قبول نہیں کیا۔ عوام کی عدالت نے اپنا فیصلہ سنا دیا نواز شریف پر کرپشن کا کوئی داغ نہیں ہے ۔ کیس پانامہ سے شروع ہوا مگر مجھے اقامہ پر نکال دیا ۔ کہتے ہیں نواز شریف نے بیٹے سے تنخواہ نہیں لی اس پر مجھے نا اہل کر دیا۔ اب خود چین سے بیٹھوں گا نہ کسی کو بیٹھنے دوں گا۔ عوام میرا نا اہلی کا فیصلہ تبدیل کرنے میں میرا ساتھ دیں۔ میرا عوام سے وعدہ ہے کہ ہم ملک کی تقدیر بدلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور میں آج جو منظر ہے وہ پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ عوام نے مجھے وزیر اعظم بنا کر اسلام آباد بھیجا تھا۔ عوام نے مجھے وزیر اعظم بنایا اور 5 لوگوں نے مجھے نا اہل قرار دے کر گھر بھیج دیا۔ عوام کو یہ فیصلہ قبول نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اسلام آباد سے 4 دن میں لاہور پہنچا ہوں پاکستان کا بچہ بچہ سراپا احتجاج ہے کہ نواز شریف کو کیسے نا اہل کر دیا لوگ پوچھتے ہیں کیا نواز شریف کو نا اہل کرنے والے خود اہل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جج کہتے ہیں کہ نواز شریف نے کوئی کرپشن نہیں کی کوئی منی لانڈرنگ نہیں کی اور پھر بیٹے سے تنخواہ نہ لینے کے جرم میں نا اہل کر دیا۔ اگر لے بھی لیتا تو کیا حرج تھا نہیں لی تو آپ کون ہیں آپ کو کیا تکلیف ہے۔ انہوں و نے کہا کہ عوام کے وزیر اعظم سے 70 سال سے یہ سلوک ہو رہا ہے۔ یہ اب بدلے گا انہوں نے کہا کہ 2013ء میں عوام نے کہا کہ نواز شریف چولہا نہیں جلتا۔ پنکھا نہیں چلتا اور روشنی نہیں
ہے 4 سال بعد بجلی بھی آنا شروع ہو گئی گیس بھی ہے اور پنکھا بھی چلتا ہے۔ لاہور میں میٹرو بس چل رہی ہے آج غریب آدمی کی بیٹی 20 سے 25 روپے میں پورے شہر کا سفر کرتی ہے آج ملک میں سڑکیں بن رہی ہیں ۔ ترقی عروج پر ہے ملک خوشحال ہو رہا ہے اور امن قائم ہو رہا ہے اور اتنے اچھے کاموں کے بعد وزیر اعظم کے ساتھ یہ سلوک ہو رہا ہے جو ہمیں منظور نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 1947ء سے آج تک وزیر اعظم کو 1.5 سے 3 سال ملے ہیں جب کہ 3آمروں نے 30 سال حکومت کی ہے۔ اب یہ نہیں چلے گا۔ انہوں نے کہا کہ راولپنڈی سے لاہور تک عوام کا جو جذبہ دیکھا یہ انقلاب کا پیش خیمہ ہے۔ انقلاب نہ آیا تو غربت کا خاتمہ بے روزگاری کا خاتمہ نہیں ہو گا۔ خوشحالی نہیں آئے گی اور قوم بدترین قوم رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوام ووٹ دیتے ہیں چند لوگ اسے گھر بھیج دیتے ہیں کیا 70 سال میں آنے والے سارے وزرائے اعظم غلط تھے کیا پاکستان میں بہتری نہیں آ رہی تھی۔ اور ترقی نہیں ہو رہی تھی۔ یہ ظلم کرنے والے کون ہیں ۔ ان کا حساب بھی ہونا چاہیئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ تماشہ کرنے اور کھیل کھیلنے والوں کا احتساب ہونا چاہئے میں نے محنت سے کام کر کے پاکستان کی تعمیر کی ہم ے بجلی کے کارخانے
20 ,20 ماہ میں خون پسینہ بہا کر مکمل کئے اربوں روپے کی بچت کی ملک کا زر مبادلہ بچایا اب بجلی سستی بھی ہو رہی ہے ۔ تاکہ پاکستان کا کاروبار چلے کون ہیں جو ترقی کو ثبوتاژ کرتے ہیں۔ عوام کو جرات کے ساتھ کھڑا ہونا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ 1971ء میں پاکستان دو لخت ہوا خدا نہ کرے کوئی اور حادثہ پیش آ جائے انہوں نے کہا کہ 20 کروڑ عوام کی کوئی عزت ہے کہ نہیں نواز شریف کو عوام نے حکم دیا تو اپنی جان ۔ اقتدار کی پرواہ نہیں اس ووٹ کا تقدس کر کے دم لے گا۔ نواز شریف نے کبھی عوام سے دھوکہ نہیں کیا انہوں نے کہا کہ 4 سال دھرنے حکومت کے خلاف سازشیں ہوتی رہیں۔ ایک سال سے مقدمہ چل رہا ہے اس کے باوجود بجلی ، گیس ، روز گار، ترقی اور خوشحالی آ جائے ۔ اگر یہ تماشے نہ ہوتے تو ہم بہت کچھ کر گئے ہوتے ۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اقتدار کی نہیں غریب عوام کے بچوں کے مستقبل ، عوام کے روزگار، ملک کی ترقی کی فکر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی تقدیر بدلنے تک گھر نہیں بیٹھوں گا۔ مجھے اقتدار کی لالچ نہیں زندگی کی خواہش ہے کہ ملک کی تقدیر بدلے جس کے لئے ہمیں اپنی سمتوں اور نظام کو بدلنا ہو گا۔ ملک کی عزت تبھی قائم ہو گی مجھے پاکستان کی عزت اور وقار عزیز ہے ملک ترقی کر رہا تھا آج ہم کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ 30 ,30 سال سے مقدمات چل رہے ہیں ۔ دادے کا مقدمہ پوتا لڑ رہا ہے لیکن انصاف نہیں مل رہا۔ یہاں سماجی، سیاسی، معاشی انصاف نہیں ہے۔ جس کے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے 90 دن میں اسے انصاف ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں نئے قوانین لانے ہوں گے۔ آئین اور نظام کو بدلنا ہو گا جو غریب عدالتی فیس ادا نہیں کر سکتے۔ ملک قوم اور مملکت اس کی فیس ادا کرے گی، یہ میرا وعدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام نیا پاکستان چاہتے جہاں ووٹ کی حرمت اور تقدس ہو جس کے لئے آپ کو نواز شریف کا ساتھ دینا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ بزرگوں نے جس پاکستان کے لئے قربانیاں دی تھیں وہ 70 سال سے نہیں بن سکا۔ آج پاکستان لٹ رہا ہے حالات بدلنے کے لئے آپ عوام کو نواز شریف کا ساتھ دینا ہو گا۔ نواز شریف نے کہا کہ میں انصاف کے لئے عوام کی عدالت میں نکلا ہوں ۔ اقتدار کے لئے نہیں میں اپنی نہیں عوام کی حکمرانی کے لئے نکلا ہوں ۔ مجھے اپنی حکمرای کی کوئی ضرورت نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ عوام دل سے عہد کر لیں کہ وہ پاکستان میں انقلاب کے لئے نواز شریف کا ساتھ دیں گے 14 اگست کے دن ہزاروں لاکھوں لوگ پاکستان کے لئے شہید ہوئے تھے۔ ہم نے اس پاکستان کی لاج نہیں رکھی1971ء میں ہم نے پاکستان سے ایک ٹکڑے کو بنگلہ دیش بنا دیا ۔ بلوچستان اور دیگر صوبوں سے برا سلوک کیا۔ عوام کو کیا ملا 80 فی صد لوگ بے گھر ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے اور بے گھر افراد کے لئے گھر بنانا میرے ایجنڈے میں شامل تھا۔ پاکستان کی سر زمین 20 کروڑ عوام کی ملکیت ہے یہ چند لوگوں کی ملکیت نہیں 20 کروڑ عوام کے حقوق انہیں ملنے چاہیں۔ خدا نے ہماری پارٹی کو موقع دیا تو وہ انقلاب لائیں گے۔ جہاں غریب کو گھر ، سستا انصاف ترقی اور خوشحالی ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ چیئر مین سینٹ نے دو دن قبل جو تجاویز دی ہیں ان کو قبول کرتا ہوں مسلم لیگ (ن) ان کا ساتھ دے گی تاکہ قوانین میں ترمیم کا کام شروع کیا جا سکے۔ انہوں نے وزیر اعظم آزاد کشمیر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ (ن) لیگ کا ایک وزیر اعظم نکال دیا گیا ۔ مگر آزاد کشمیر کا ایک وزیر اعظم ہے جو ترقی کے لئے کام کر رہا ہے ڈر ہے اس کو بھی نا اہل نہ کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قوم کشمیر کے ساتھ ہے۔ مقبوضہ کشمیر بھی پاکستان کا حصہ بنے گا۔ نواز شریف نے بلوچستان دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے فوجی افسران اور دیگر شہداء کی قربانیوں پر تعزیت کی اور کہا کہ خدا ان کی شہادت قبول فرمائے انہوں نے کہا کہ عوام کی محبت کو زندگی بھر یاد رکھوں گا میں 14 اگست کو عوام کو اپنا اگلا پروگرام دوں گا یقین ہے عوام بھرپور ساتھ دیں گے۔

loading...