اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

گلوکارہ زبیدہ خانم کی وفات

وزیرِ اعظم کے نا اہل ہونے کی سزا عوام کو کیوں مل رہی ہے

 وزیرِ اعظم کے نا اہل ہونے کی سزا عوام کو کیوں مل رہی ہے

گھر سے دفتر جاتے ہوئے مینارِ پاکستان کا آزادی چوک اور داتا دربار میرے راستے میں پڑتے ہیں۔ یہ کل یعنی 11 اگست کی بات ہے جب میں معمول کے مطابق صبح نو بجے گھر سے نکلا تو آزادی چوک انٹر چینج کو بیرئیرز لگا کر بند کردیا گیا۔ داتا صاحب جانے والا راستہ بالکل بلاک تھا۔ لوگ ٹریفک وارڈن سے بحث کر رہے تھے۔ جیسے جیسے لوگوں کی تکرار بڑھتی جارہی تھی ویسے ویسے پیچھے سے آنے والی ٹریفک بڑھتی جارہی تھی۔ لیکن ڈیوٹی پر معمور ٹریفک وارڈن کا ایک ہی جواب تھا کہ میاں صاحب کی ریلی کے لئے انتظامات کئے جا رہے ہیں۔ سچ پوچھیے تو یہ سن کر تشویش کی لہر دوڑ گئی کیونکہ جس وقت لاہور کی سڑکیں بند کی جا رہی تھیں اُس وقت تو سابق وزیرِ اعظم میاں نواز شریف کی ریلی جہلم میں تھی اور میاں صاحب جہلم کے ہوٹل میں آرام فرما رہے تھے، اور جس رفتار سے اُن کی ریلی چل رہی تھی اُس کو دیکھتے ہوئے خیال یہی تھا کہ ریلی ہفتے کی رات یا اتوار تک لاہور پہنچے گی، تو ایسی صورت میں دو یا تین دن پہلے لاہور کی سڑکیں بند کرنے کا جواز نہ تو پولیس وارڈن دے سکے اور نہ میں اب تک یہ سب سمجھ سکا ہوں۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہم جیسے ووٹر کی یہی عزت ہے کہ اُن کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے وزیرِ اعظم نا اہلی کے بعد فاتحانہ انداز میں اسلام آباد سے لاہور کے تمام راستے میں لوگوں کا سڑکوں پر مذاق اڑائیں؟ اِن ووٹرز کو بتایا جائے کہ اُن کی اصلیت کیا ہے؟ یہ کہاں کی جمہوریت ہے کہ جہلم میں اپنی آرام گاہ سے پورے 180 کلومیٹر دور لاہور کا آزادی چوک فلائی اوور نواز شریف کے پروٹوکول کی وجہ سے بند کر دیا جائے؟ اور پروٹوکول کس کا؟ کیونکہ پروٹوکول تو وزیرِ اعظم کے عہدے کا ہوتا ہے، اور ویسے بھی پاکستان کے آئین میں تو اِس قدر بڑے قافلوں کے ذریعے عوام کے راستے بند کرنے کی اجازت کے بارے میں، میں نے نہیں پڑھا، اگر آپ کو کچھ اِس بارے میں علم ہو تو ہمیں بھی آگاہ کیجیے۔
آپ ذرا اندازہ کیجیے کہ میاں صاحب نے اپنے پورے سفر میں نااہلی کا فیصلہ دینے والے ججز پر تو خوب تنقید کی اور کہا کہ انہیں نا اہل کر کے عوام کے مینڈیٹ کی توہین کی گئی، لیکن وہ یا تو بہت زیادہ معصوم ہیں یا پھر معصوم بننے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں کہ اُن کو اِس بات کا علم نہ ہو کہ اُن کی حفاظت کی خاطر دو دن سے لاہور کی آزادی چوک اور دیگر داخلی راستوں کو محض اُن کی سیکورٹی کی خاطر بند کر دیا گیا ہے، اور اِس تکلیف کی وجہ سے اُن کے ووٹر کی جو توہین ہو رہی ہے وہ اُس کا اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔ یہاں یہ بات یاد رہے کہ صرف آزادی چوک ہی بند نہیں بلکہ داتا صاحب کے سامنے بھاٹی چوک کو بھی سرخ رنگ کا کنٹینر لگا کر بند کر دیا گیا۔ پولیس ذرائع سے معلوم ہوا کہ میاں صاحب کی ریلی کی سیکورٹی کے لئے آٹھ (8) ہزار پولیس اہل کار اور دو (2) ہزار ٹریفک وارڈن تعینات کئے جا رہے ہیں۔ مجھے تو یہ ساری صورت حال دیکھ کر آمریت، بادشاہت اور جمہوریت میں کوئی فرق نظر نہیں آیا، ہاں کچھ نظر آیا تو صرف پولیس کی صورت میں لاٹھی اور ذلیل و خوار ہوتی عوام نظر آئی۔ یہ صورت حال دیکھ کر نواز شریف کی طرف سے ووٹر کی توہین کا بیان بار بار ذہن میں آیا، اور ٹریفک میں رسوا ہوتے ہوئے مستقل یہی سوچتا رہا کہ عوام کے ووٹ کی توہین ججز نے کی یا خود نواز شریف کر رہے ہیں؟ عوام کے ٹیکس کے پیسے سے بننے والی سڑکیں عوام کے لئے ہی بند کر دی گئیں کیا یہ عوام کے مینڈیٹ کی توہین نہیں؟ عوام کے ٹیکس کے پیسے سے پنجاب بھر کے وسائل ایک نا اہل وزیر اعظم کے پروٹوکول پر جھونک دیے گئے، کیا یہ عوام کے مینڈیٹ کی توہیں نہیں؟ ہم عوام کے جن پیسوں سے ترقیاتی کام ہونے تھے، گٹر صاف ہونے تھے، وہ سارا پیسہ تو نواز شریف صاحب کے خیر مقدمی پوسٹرز پر لگائے جا رہے ہیں، کیا یہ ووٹر کی توہین نہیں؟ نواز شریف تو اب وزیرِ اعظم بھی نہیں پھر بھی اُن کی اسلام آباد سے لاہور آمد تک عوام کے ٹیکس سے تنخواہ لینے والی سرکاری مشینری کو استعمال کیا جا رہا ہے، کیا یہ عوام کی توہین نہیں؟ ملک میں بجلی نہیں لیکن ریلی کے راستے میں لگی فلڈ لائٹس دن کو بھی روشن ہیں، کیا یہ عوام کے ٹیکس کے پیسے کی توہین نہیں؟ نا اہل تو وزیرِ اعظم ہوئے لیکن سزا عوام کو کیوں مل رہی ہے؟
نواز شریف تو اب بھی گجرانوالہ میں ہیں، لیکن اب بھی لاہور بند کیوں ہے؟ لاہور کے صرف راستے نہیں بلکہ نا اہل وزیرِ اعظم کے روٹ پر آنے والی دکانیں بند، ہوٹل بند، ورکشاپ بند، راستے بند اور نظام زندگی بند کر کے بھی کہا جا رہا ہے کہ عوام کے دلوں میں حکومت ہے۔ اِس اذیت کے بعد بھی میں میاں صاحب سے کہنا چاہتا ہوں کہ خدارا آپ دلوں پر حکومت کر لیجیے لیکن لاہوریوں کی جان چھوڑیں۔ اگر آپ اب بھی پارٹی پر گرفت رکھتے ہیں تو فوری طور پر حکم جاری کریں کہ لاہور کے راستوں اور کاروبارِ زندگی کو فوری طور پر کھولا جائے۔
آخری بات یہ کہ میاں صاحب آپ لاہور کے حلقے این اے 120 کو ہلکا نہ لیں، عوام کو تنگ کرکے آپ عوامی طاقت کا مظاہرہ کر کے اِس بھول میں نہ رہیں کہ آپ اِس عوام کو چاہے جتنی اذیت دے دیں، یہ ووٹ آپ کو ہی دیں گے۔ یاد رکھیے کہ عزت صرف آپ کی ہی نہیں ووٹر کی بھی ہے۔ چونکہ راستے میں آپ کے پاس سوچنے کے لیے بہت وقت ہے اِس لیے ذرا سوچیے گا کہ راستے بند کر کے آپ عوام کی کیا خدمت کر رہے ہیں؟ اگر پاور شو دکھانا ہے تو اُن کو دکھائیں جن کے پاس پاور ہے، عوام تو بیچاری ویسے ہی کمزور ہے۔ راستے بند کرنے سے کتنی اذیت ہوتی ہے اِس کا اندازہ آپ کو پروٹوکول میں خوش آمدی حمایتی کی جھڑمٹ میں قطعی طور پر نہیں ہو سکتا۔ اِس کو سمجھنے کے لیے آپ کو عوام کے بیچ میں آنا ہو گا۔ اگر آپ کو لوگوں کے دلوں میں حکومت کرنی ہے تو عوام کے دل جیتیے، راستے بند کرنے کے بجائے عوام کی سہولت کے لیے راستے کھولے جائیں۔ یہ بات اچھی طرح سمجھ لیجیے کہ دل کا دروازہ باہر سے نہیں اندر سے کھلتا ہے۔

تحریر: عاطف اشرف بشکریہ ایکسپریس نیوز