اشاعت کے باوقار 30 سال

جاپان: فوکو شیما جوہری پلانٹ سے جنگ عظیم دوئم کا بم برآمد

جاپان: فوکو شیما جوہری پلانٹ سے جنگ عظیم دوئم کا بم برآمد

ٹوکیو: جاپان کے فوکوشیما جوہری پلانٹ کے احاطے سے مبینہ طور پر جنگ عظیم دوئم کا بم برآمد ہوا ہے، جو پھٹ نہیں سکا تھا۔ ٹوکیو الیکٹرک پاور کمپنی کے ترجمان نے بتایا کہ 85 سینٹی میٹر (تقریبا 2.9 فٹ) لمبا بم، ملازمین کو نیوکلیئر پلانٹ کے نزدیک پارکنگ کی تعمیر کے دوران ملا۔ اس بم کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ جنگ عظیم کے دوران اسے امریکا نے گرایا تھا تاہم یہ پھٹ نہیں سکا۔ نیوکلیئر پلانٹ کے حکام کا کہنا ہے کہ جنگ عظیم دوئم کا یہ بم بغیر پھٹا ہوا ہے جبکہ اس حوالے سے مزید تحقیقات کے لیے پولیس کی خدمات طلب کی جا چکی ہیں۔ ترجمان کے مطابق 'جیسے ہی یہ چیز ہمیں ملی ہم نے ترقیاتی کام کو روک کر علاقے کو سیل کر دیا اور پولیس کو آگاہ کیا'۔ جاپان کی جی جی پریس کے مطابق ایسی صورتحال میں پولیس جاپانی فوج سے بم ڈسپوزل کے ماہرین کو طلب کرتی ہے۔ 1945 میں ختم ہونے والی جنگ کے 70 سال بعد بھی جاپان میں کبھی کبھار بغیر پھٹے ہوئے بم اور شیل برآمد ہوتے ہیں، تاہم ایسا بالخصوص اوکیناوا کے جنوبی جزیرے پر ہوتا ہے جہاں خونی جنگ کی سی صورتحال رہی تھی۔ جنگ عظیم دوئم کے وقت شمال مشرقی جاپان کے علاقے فوکوشیما میں جاپانی فوج کا ایئرپورٹ موجود تھا اور یہ علاقہ امریکی بمباری کا نشانہ تھا۔ امریکا کی جانب سے جاپانی شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے جانے کے نتیجے میں ایک لاکھ 20 ہزار شہری ہلاک ہوئے تھے۔ دوسری جنگ عظیم کے نتیجے میں دنیا بھر میں تقریبا ساڑھے 5 کروڑ افراد ہلاک ہوئے تھے، یہ تاریخ کی سب سے بڑی اور تباہ کن جنگ تھی۔