اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

گلوکارہ زبیدہ خانم کی وفات

برطانیہ: 16 سالوں میں 1400 بچوں کا جنسی استحصال

لندن: برطانوی پارلیمان کی ایک رکن کا کہنا ہے کہ نسل پرست کہلانے کا خوف بچوں کے جنسی استحصال کی تحقیقات کرنے والے حکام کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ رادرہم کی ایم پی سارہ چیمپیئن نے یہ بات نیو کاسل میں 17 مجرموں پر لڑکیوں کو جنسی فعل پر مجبور کرنے کا الزام ثابت ہونے کے بعد کہی۔ ان مجرموں میں سے زیادہ تر برطانیہ ہی میں پیدا ہوئے ہیں تاہم وہ عراقی، بنگلہ دیشی، پاکستانی، انڈین، ایرانی اور ترک نژاد ہیں۔ مِس چیمپیئن کے بقول کسی 'تقافت میں موجود مسائل' کے بارے میں استفسار کرنا 'بچوں کا تحفظ' ہے۔ نارتھ امبریا میں پولیس حکام کہتے ہیں کہ معاشرے کو اس گفتگو سے اجتناب نہیں کرنا چاہیے۔ مِس چیمپیئن کا تعلق حزبِ اختلاف کی جماعت لیبر پارٹی سے ہے اور وہ خواتین اور مساوات کی شیڈو مِنسٹر ہیں انھوں نے کہا کہ 'حکومت یہ جاننے کی کوشش ہی نہیں کر رہی کہ اصل میں ہو کیا رہا ہے۔ کیا ان مسائل کی وجہ ثقافت ہے؟ کیا کسی مخصوص برادری کے اندر کسی قسم کا پیغام دیا جاتا ہے۔ 'مِس چیمپیئن نے خدشہ ظاہر کیا کہ دائیں بازوں والے ان پر کچھ نہ کرنے کے لیے تنقید کریں گے۔ جبکہ بائیں بازوں والے انہیں نسل پرست گردانیں گے۔ 'ان کا کہنا تھا کہ سوال نسل پرستی کا نہیں بلکہ بچوں کے تحفظ کا ہے۔ ان کے بقول سنہ 1997 سے 2013 تک کم سے کم 1400 بچوں کو جنسی استحصال کا نشانہ بنایا گیا۔ رمضان فاؤنڈیش کے محمد شفیق کہتے ہیں کہ اس موضوع پر سیاق و سباق میں رہ کر بحث کی جانی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ 'یہ مجرم ایک مخصوص ذہنیت کے حامل ہیں۔ وہ سفید فام لڑکیوں کو کسی قابل ہی نہیں سمجھتے۔