اشاعت کے باوقار 30 سال

ورچوئل کرنسی بٹ کوائن پہلی بار تین ہزار ڈالرز کی حد کو عبور کر لیا

ورچوئل کرنسی بٹ کوائن پہلی بار تین ہزار ڈالرز کی حد کو عبور کر لیا

لندن: ورچوئل کرنسی بٹ کوائن نے پہلی بار تین ہزار ڈالرز کی حد کو عبور کر لیا ہے اور اس کے ایک سکے کی قیمت ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے۔اس وقت دنیائے انٹرنیٹ کی اس کرنسی کے ایک یونٹ یا یوں کہہ لیں کہ ایک روپے کی قیمت 3398 ڈالرز (3 لاکھ 58 ہزار روپے سے زائد) پر پہنچ چکی ہے۔ یعنی ایک بٹ کوائن سے ساڑھے ساتھ تولے تک سونا خریدا جا سکتا ہے۔ اس کرنسی میں یہ نمایاں اضافہ اس وقت سامنے آیا ہے جب گزشتہ سال اسے دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا تھا اور دوسری کرنسی کو بٹ کوائن کیش کا نام دیا گیا۔ یہ نئی کرنسی اس وقت 223 ڈالرز میں فروخت کی جا رہی ہے جس کی مارکیٹ ویلیو پانچ ارب ڈالرز ہے جبکہ بٹ کوائن کی مارکیٹ ویلیو 55 ارب ڈالرز سے تجاوز کر چکی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بٹ کوائن کی قیمت گزشتہ سال مئی میں صرف 443 ڈالرز تھی اور ایک سال میں اتنا اضافہ حیران کن ہے۔ یہ بٹ کوائن کے لیے ایک سنگ میل ہے کیونکہ اسے ڈیجیٹل گولڈ بھی قرار دیا جاتا ہے۔ کسی حقیقی کرنسی کے مقابلے میں بٹ کوائنز ہر طرح کے ضابطوں یا حکومتی کنٹرول سے آزاد ہے اور اس کا استعمال بہت آسان ہے۔ اس وقت اسے متعدد ممالک جیسے کینیڈا، چین اور امریکا وغیرہ میں استعمال کیا جا رہا ہے تاہم دنیا میں انٹرنیٹ تک رسائی رکھنے والا ہر شخص اس کرنسی کو خرید سکتا ہے۔ اس کرنسی کی لین دین کے لیے صارف کا لازمی طور پر بٹ کوائن والٹ اکاؤنٹ ہونا چاہئے جسے بٹ کوائن والٹ اپلیکشن ڈاؤن لوڈ کر کے بنایا جا سکتا ہے۔ والٹ اکاؤنٹس کو پے پال، کریڈٹ کارڈز یا بینک اکاؤنٹس وغیرہ کے ذریعے بٹ کوائنز خریدنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مائیکرو سافٹ سمیت انٹرنیٹ پر کام کرنے والی سینکڑوں کمپنیاں بٹ کوائنز کو قبول کرتی ہیں، جن میں سوشل گیمنگ سائٹس جیسے زینگا، بلاگ ہوسٹنگ ویب سائٹس جیسے ورڈ پریس اور آن لائن اسٹورز جیسے ریڈیٹ اور اوور اسٹاک ڈاٹ کام وغیرہ قابل ذکر ہیں۔