اشاعت کے باوقار 30 سال

موبائل کے ذریعے امریکیوں کا ڈیٹا چین منتقل ہونے کا انکشاف

موبائل کے ذریعے امریکیوں کا ڈیٹا چین منتقل ہونے کا انکشاف

واشنگٹن: حال ہی میں آن لائن مصنوعات فروخت کرنے والی امریکا کی کمپنی ایمازون کے بانی نے دنیا کے سب سے امیر ترین شخص ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ ایمازون اپنی مصنوعات اور اصولوں کی وجہ سے دنیا بھر میں شہرت رکھتا ہے، مگر ایک سال قبل ایمازون کی جانب سے فروخت کے لیے پیش کیے گئے ’بلیو‘ نامی اسمارٹ موبائل کے ذریعے صارفین کا ڈیٹا چوری ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ بلیو اسمارٹ موبائل کے ذریعے صارفین کا ڈیٹا چوری ہو کر چین منتقل ہونے کے انکشاف کے بعد کمپنی نے موبائل فون کی فروخت بند کر دی۔ کمپنی نے ٹوئیٹ میں بتایا کہ بلیو اسمارٹ موبائل میں سیکیورٹی کمزوریوں کے انکشاف کے بعد موبائل کو ایمازون سے ہٹا دیا گیا، اب یہ موبائل مزید فروخت کے لیے پیش نہیں ہو گا۔ تاہم کمپنی نے یہ وضاحت نہیں کی کہ جن صارفین کا ڈیٹا چوری کر کے چین منتقل کیا گیا، ان کے ڈیٹا کا کیا ہو گا؟ ایمازون نے بلیو موبائل کو فروخت کے لیے پیش کرتے وقت اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ اس کے سافٹ ویئر کی تیاری تیسرے فریق نے کی۔ اطلاعات کے مطابق بلیو اسمارٹ موبائل میں استعمال کیے جانے والے سافٹ ویئر کی تیاری چین میں ہوئی، جب کہ سافٹ ویئر میں سیکیورٹی کمزوریوں کی نشاندہی امریکی کمپنی نے کی۔ایمازون نے بلیو کو گزشتہ برس کے آخر میں فروخت کے لیے پیش کیا تھا، بعد ازاں اسمارٹ آلات میں سیکیورٹی خامیوں پر نظر رکھنے والے ادارے کریپٹو وائر نے یہ خبر دی تھی کہ بلیو موبائل کے ذریعے صارفین کا ڈیٹا چوری کیا جا رہا ہے۔ سیکیورٹی خامیوں کی نشاندہی کرنے والے ادارے کی رپورٹ کے مطابق ایمازون کی جانب سے فروخت کے لیے پیش کی جانے والے بلیو موبائل کے صارفین کا ڈیٹا چین منتقل ہو رہا ہے۔ رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا کہ جس کمپنی نے بلیو اسمارٹ موبائل کا سافٹ ویئر تیار کیا، اسی کمپنی کو صارفین کا ڈیٹا منتقل ہو رہا ہے۔ کمپنی کے ایسے انکشاف کے بعد امریکی میڈیا میں بھی ایمازون کے موبائل کے بارے میں خبریں شائع ہوئیں، جس کے بعد ایمازون نے موبائل کی فروخت روک دی۔