اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

گلوکارہ زبیدہ خانم کی وفات

رحم میں موجود بچے کے دل کی سرجری

رحم میں موجود بچے کے دل کی سرجری

کرسٹائن بیری کا کہنا تھا کہ جب اس نے اپنے نو زائیدہ بچے کی آواز سنی تو وہ میری زندگی کا خوشگوار ترین لمحہ تھا۔ اسے بتایا گیا تھا کہ یہ بچہ نیلگوں ہو گا کیونکہ اس کو مناسب مقدار میں آکسیجن نہیں مل رہی۔ لیکن جب مئی میں ٹورانٹو کے ماؤنٹ سینائی ہسپتال میں سبسطیئن کی پیدائش ہوئی تو اس کا سارا جسم گلابی تھا اور وہ چلا رہا تھا۔اگر ماں کے رحم میں ہوتے ہوئے ہی سبسطیئن کا دل کا ایک نازک آپریشن نہ کیا جاتا تو صورت حال کافی مختلف اور پیچیدہ ہوتی۔ پیدائش سے قبل ہی چیک اپ کے دوران یہ معلوم ہو گیا تھا کہ سبسطیئن دل کی ایک نادر بیمارری کا شکار تھا۔ اس کی دو بڑی شریانیں الٹ ترتیب سے لگی ہوئی تھین علاوہ ازیں اس کے دل کی درمیانی دیوار میں کوئی رستہ نہ تھا جس سے خون آکسیجن حاصل کرنے کے لئے دوسرے حصے میں جا سکے۔ماؤنٹ سینائی ہسپتال کے ڈاکٹر گریگ ریان کا کہنا تھاکہ ہمیں ایک ایسے بچے سے واسطہ پڑا تھا جس کے دوران خون کی دونوں اطراف میں کوئی رابطہ نہ تھا ۔ اس کے دل کے اوپر کے حصے اور نچلے حصے کے درمیان کوئی راستہ نہ تھا اس کہ علاوہ اس کی شریانیں غلط اطراف میں جڑی ہوئی تھیں۔ ماہر امراض قلب ڈاکٹر راجیو چترویدی کے مطابق عام طور پر دل کے نقائص والے بچوں کو پیدائش کے فوراً بعد ماؤنٹ سینائی کے خصوصی حصے میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔ مگر سبسطیئن کے معاملے میں ایسا ممکن تہ تھا کیونکہ دل کے دونوں حصوں میں ربط نہ ہونے سے اس کو آکسیجن نہ ملتی جو وہ رحم میںآنول کے ذریعے حاصل کر سکتا تھا۔ اس نازک مرحلے پر ڈاکٹروں نے رحم کے اندر ہی ایک پرخطر اور یادگار آپریشن کرنے کا سوچا۔ بیری کے رحم میں سبسطیئن کے دل میں ایک سوئی کے ذریعہ ایک ننھا سا غبارہ بھیج کر اس کے ذریعہ دل کی درمیانی دیوار میں ایک راستہ بنایا گیا تاکہ بچہ کے جسم کو آکسیجن سے بھرپور خون مل سکے۔ اگر چہ آپریشن کامیاب رہا لیکن یہ اس کا مستقل حل نہیں تھا اس کے لئے پیدائش کے بعد سبسطیئن کی اوپن ہارٹ سرجری ضروری تھی لیکن وقتی طور پر سبسطیئن کی بلا خطر معمول کے مطابق ہیدائش ممکن ہو گئی۔ ایک ہفتہ بعد سبسطیئن کی اوپن ہارٹ سرجری ہوئی ۔ دو ما بعد وہ عام بچوں کی طرح تھا۔ سبسطیئن کے والدین کو بتا یا گیا کہ اوپن ہارٹ سرجری کا نشان وقت کے ساتھ اتنا مدھم ہو جائے گا کہ بلوغت کے وقت وہ عام نظر سے محسوس بھی نہیں ہو گا۔