اشاعت کے باوقار 30 سال

طبی معجزات سے بھرپور جان بچانے والا کیڑا

طبی معجزات سے بھرپور جان بچانے والا کیڑا

پیرس: مچھلی کے چارے کے طور پر عام استعمال ہونے والا ایک کیچوا (لُگ ورم) اب طب کی دنیا میں انقلاب لا کر ہزاروں لاکھوں افراد کی جان بچا سکتا ہے۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ طب میں اس کا استعمال خون کی متبادل فراہمی میں مدد فراہم کرے گا۔ اسی طرح پیوند کاری اور سرجری کے بعد بھی یہ معمولی کیڑا انسانی جانوں کو بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے جسے طبی معجزہ کہا جا سکتا ہے، کیونکہ اس کے خون میں آکسیجن کی بہت بڑی مقدار پائی جاتی ہے۔
فرانس میں برٹنی ساحل پر موجود ایکوا اسٹریم نامی ایک کمپنی اور فارم سے وابستہ ماہر گریگری ریمنڈ نے انکشاف کیا ہے کہ لُگ ورم کے خون میں جادوئی ہیموگلوبن ہوتا ہے جو انسان کے مقابلے میں 40 گنا زائد آکسیجن جسم کے خلیات تک پہنچاتا ہے۔ گریگری کی ٹیم دن رات محنت کرکے لگ اپنی لیبارٹری میں ہر سال 13 لاکھ کیچوے تیار کر کے احتیاط سے ان کا ہیموگلوبن جمع کررہے ہیں جو کسی خزانے سے کم نہیں۔ 2003 میں یورپ میں میڈ کاؤ مرض اور ایچ آئی وی میں اضافے کے بعد خون کی مانگ میں اضافہ ہوا تھا۔ جانوروں کے ہیموگلوبِن انسانوں میں الرجی اور گردوں میں بیماری پیدا کرسکتے ہیں لیکن کیچوے کا ہیموگلوبن اس کے خون میں گھل جاتا ہے ناکہ انسانوں کی طرح سرخ خلیات میں جمع ہوتا ہے اس لیے انسانوں کے لیے یہ کوئی مسئلہ پیدا نہیں کرے گا اور ہر طرح کے بلڈ گروپ کے لیے اس کا ہیموگلوبن کارآمد ثابت ہو سکتا ہے۔
2006 میں سائنسدانوں کی ایک اور ٹیم نے مقامی لُگ ورم کیچوے کا خالص ہیموگلوبن نکالا اور انہیں چوہوں پر آزمایا گیا تو وہ تندرست رہے اور کسی قسم کا کوئی امنیاتی ردِعمل ظاہرنہیں کیا۔ اگر اس کیڑے کا ہیموگلوبن انسانوں کے لیے موافق ثابت ہو جاتا ہے تو اسے سیپٹک شاک کے مرض کا علاج ممکن ہو گا جس میں اچانک بلڈ پریشربڑھنے سے جسمانی اعضا ناکارہ ہوجاتے ہیں۔ دوسری جانب اس ننھے کیڑے کے ذریعے پیوندکاری کے لیے اعضا کی حفاظت میں بھی مدد مل سکے گی۔ اس کے خون کی طبی آزمائشیں 2015 میں شروع ہوئیں اور کیڑے کا ہیموگلوبِن 10 انسانی گردوں میں شامل کیا گیا تو بہت اچھے نتائج برآمد ہوئے، اب پورے فرانس میں مزید 60 افراد پر اس کے مختلف ٹیسٹ کئے جائیں گے۔ دس انچ کیچوا قدرت کا ایک شاہکار ہے جو سمندر کے کنارے مٹی میں دبا رہتا ہے اور اس کے جسم پر بیرونی گلپھڑے ہوتے ہیں۔ پانی میں ڈوبنے پر یہ اپنے اندر آکسیجن کا ذخیرہ کر لیتا ہے اور 8 گھنٹے تک آرام سے زندہ رہتا ہے۔
کیچوے کی افزائش میں سب سے بڑا مرحلہ یہ آیا کہ انہیں لیبارٹری میں کیسے زندہ رکھا جائے کیونکہ یہ حساس جانور اپنے ماحول میں ہی سکون سے رہتا ہے۔ تاہم اب بھی منزل بہت دور ہے اور اس کے ہیمگلوبن کی ہر قسم کی آزمائش سے گزارنے کی ضرورت ہے تاکہ انسانوں پر اس کا بے خطر استعمال کیا جا سکے۔

loading...