اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

جارج واشنگٹن وفات پا گئے

دو ایرانی فٹبالروں کو بیک وقت تعریف اور تنقید کا سامنا

دو ایرانی فٹبالروں کو بیک وقت تعریف اور تنقید کا سامنا

تہران: دو ایرانی فٹبالروں کو ان کے ملک ایران میں اس وقت تعریف اور تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب انھوں نے اپنے یونانی فٹبال کلب کی جانب سے اسرائیلی کلب مکابی تل ابیب کے حلاف میچ کھیلا۔ یورپا لیگ کے تیسرے کوالیفائنگ راؤنڈ میں پینیئنائز آف ایتھنز اور مکابی کے درمیان کھیلا گیا یہ میچ دونوں ہی ٹیموں کے مداح یاد رکھنا نہیں چاہیں گے تاہم اس کے باوجود گراؤنڈ پر ایرانی فٹبالرز مسعود شوجاعی اور احسن ہجصافی کی موجودگی ایرانیوں کی نگاہ سے نہ بچ سکی۔ خیال رہے کہ ایران چونکہ اسرائیل کو ریاست تسلیم نہیں کرتا اس لیے وہ اپنے کھلاڑیوں کو بین الاقوامی مقابلوں میں اسرائیلی کھلاڑیوں کے مد مقابل آنے کی اجازت نہیں دیتا۔ گذشتہ سال ریو اولمپکس میں بھی ایرانی ایتھلیٹ علی رضا خوجستحے جوڈو کے مقابلوں سے ’ذاتی وجوہات‘ کی بنا پر دستبردار ہو گئے تھے لیکن ان کے اس فیصلے کے بارے میں خیال کیا جا رہا تھا کہ یہ اسرائیلی کھلاڑی کے خلاف ممکنہ میچ کی وجہ سے کیا گیا۔ بعض سوشل میڈیا صارفین نے ان دونوں فٹبالرز کی جانب سے پابندی کی پرواہ نہ کرنے پر تعریف کی ہے۔ ان دونوں فٹبالرز نے میچ کے دوران کلائی پر سبز، سفید اور سرخ رنگ کے بینڈز بھی پہن رکھے تھے جس کا مقصد ایرانی جھنڈے کو ظاہر کرنا تھا۔ ٹوئٹر پر ایک صارف نے کہا کہ ’آخر قابل کھلاڑیوں کو ایسی پابندیوں کی وجہ سے کیوں ضائع کیا جا رہا ہے؟ اس روایت کو توڑنا ایک بڑی پیش رفت ہے۔ کسی بھی قیمت پر ان کا ساتھ دیں۔‘ ایک اور صارف نے کہا کہ ’(سخت گیر ایرانیوں) ’جنھیں تشویش ہے‘ اب ان کھلاڑیوں کی یہ کہہ کر بے عزتی کرنا شروع کر دیں گے کہ انھوں نے اسلام کو خطرے میں ڈالا۔‘ لیکن تعریف کرنے والوں کی تعداد کم ہے اور زیادہ تر افراد کا کہنا ہے کہ ان کھلاڑیوں کو یہ میچ چھوڑ دینا چاہیے تھا۔ ان میں سے ایک بھی کھلاڑی اس سکواڈ کا حصہ نہیں تھا جو گذشتہ ہفتے پہلا مرحلہ کھیلنے کے لیے تل ابیب گیا تھا۔

loading...