اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

چین کے ساحل کے پاس فیری ڈوب گئی

نئے 10میڈیکل کالجوں کی منظوری کے لئے درخواستیں مسترد

 نئے 10میڈیکل کالجوں کی منظوری کے لئے درخواستیں مسترد

اسلام آباد: پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل اسلام آباد (پی ایم ڈی سی ) نے نئے 20 میڈیکل کالجوں کی منظوری کے لئے آئی درخواستوں میں سے دس درخواستیں چانچ پڑتال کے بعد مسترد کردی ہیں اور باقی دس درخواستوں کا جائزہ آئندہ ہونے والے سکروٹنی کمیٹی کے اجلاس میں کیا جائے گا۔پی ایم ڈی سی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ منظور نظر شخصیات کو نوازنے کے لئے وزارت صحت نے نامکمل درخواستیں قبول کر کے کونسل کو بھجوا دی ہیں، یہ درخواستیں وزارت کے متعلقہ سیکشن کو ہی مسترد کر دینا چاہیے تھیں کیونکہ بہت سی درخواستوں میں ضروری کاغذات نہیں لگائے گئے تھے۔ صدر پی ایم ڈی سی ڈاکٹر شبیر لہری کی صدارت میں سکروٹنی کمیٹی کا اجلاس جمعرات کے دن منعقد ہوا جس میں 20 میں سے دس میڈیکل کالجز کی منظوری کی درخواستیں جانچ پڑتال کے بعد مسترد کر دی گئی ہیں ۔ مسترد شدہ کالجوں میں ایویسینا میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج لاہور، ایچ بی ایس میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج اسلام آباد، واپڈا میڈیکل کالج لاہور، العلیم میڈیکل کالج لاہور، حشمت میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج گجرات ، نیازی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج سرگودھا، جہلم میڈیکل کالج جہلم، کینٹونمنٹ بورڈ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائینسز اینڈ ڈینٹل کالج پشاور، ابو امارا میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج لاہوراور مالاکنڈ ڈینٹل کالج مٹا سوات شامل ہیں۔ پی ایم ڈی سی کے ایک سینئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مسترد ہونے والے کالجوں کی طرف سے متعلقہ یونیورسٹیز کی طرف سے جاری کئے گئے Letter of Intent کو درخواستوں کے ساتھ لف نہیں کیا گیا، قانون کے مطابق کالجوں کے لئے ضروری ہے کہ متعلقہ یونیورسٹیز کی طرف سے این او سی لے کر وزارت کے ذریعے منظوری کو اپلائی کیا جائے لیکن ان کالجز کی طرف سے یونیورسٹیز کی اجازت کے بغیر ہی منظوری کے لئے درخواستیں وزارت صحت میں جمع کروا دی گئیں۔انہوں نے کہا کہ اجلاس کے دوران ان کالجز کی مالی اور قانونی ڈاکومنٹس کی جانچ پڑتال بھی کی گئی اور زیادہ تر درخواست گزاروں کی طرف سے غیر مستند اور کمزور مالی اور قانونی کاغذات لف کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ درخواستیں وزارت صحت کو ہی نامکمل ہونے کہ وجہ سے مسترد کر دینی چاہیے تھیں لیکن وزارت کے کرپٹ عناصر نے ذاتی مفادات اور منظور نظر شخصیات کو نوازنے کیلئے درخواستیں قبول کرکے کونسل کو بھجوادی ہیں۔وزارت کی طرف سے 30جون کو 20نئے میڈیکل کالجز کی منظوری کیلئے فہرست کونسل کو بھجوائی گئی تھی۔ذرائع کے مطابق دس دیگر کالجز کی درخواستیں جن میں سی ایم ایچ میڈیکل کالج، بوائز میڈیکل کالج جامشورو، ایچ آئی ٹی ای سی انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائینسزاینڈ ڈینٹل کالج ٹیکسلا، ابوا میڈیکل کالج فیصل آباد، سوات میڈیکل کالج، محمد میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج میر پورخاص، شاہدہ اسلام میڈیکل کمپلیکس ڈینٹل کالج لودھراں، بہاولپور میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج، واتم میڈیکل کالج راولپنڈی اور راشد لطیف میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج لاہور کی جانچ پڑتال آئندہ اجلاس میں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سکروٹنی کے مراحل سے کامیابی سے گزرنے والے کالجوں کی دوسرے مرحلے میں انسپیکشن کا عمل شروع کیا جائے گا۔دوسری طرف صدر پی ایم ڈی سی ڈاکٹر شبیر احمد لہری نے رابطہ پر بتایا کہ نئے کالجوں کی منظوری میں شفافیت کے عمل کو یقینی بنایا جارہا ہے اور اس پر کسی قسم کا کمپرومائز نہیں کیا جائے گا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے قبول کیا کہ پاکستان میں موجود 144میڈیکل کالجز کیلئے فیکلٹی کی تعداد کم ہے۔انہوں نے کہا کے نئے کالجز منظوری کیلئے دوسرے کالجز کی فیکلٹی چوری کرتے ہیں اوراس سلسلہ میں بھاری مراعات کی پیش کش کی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کے فیکلٹی چوری کے عمل کو روکنے کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے۔صدر پی ایم ڈی سی کا کہنا تھا کہ کونسل کسی بھی فیکلٹی ممبر کے ایک کالجکو چھوڑنے کیلئے ایک سال کے پیشگی نوٹس سے مشروط کرنے پر سوچ رہی ہے جس کے تحت کسی بھی ممبر کو کوئی بھی کالج چھوڑنے سے پہلے ایک سال پہلے متعلقہ کالج انتظامیہ کا بتانا ہوگا۔تاہم وزارت صحت کے ذرائع نے رابطہ پر بتایا کہ وزارت کی طرف سے 50نئے کالجز کی درخواستیں اس سال وصول ہوئیں تھیں جن میں سے 30مسترد کردی گئیں جبکہ 20درخواستیں پراسس کیلئے کونسل کو بھجوائی گئیں۔

loading...