اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

ولیم اور ہیری کا والدہ کے تابوت کے پیچھے پیچھے چلنا ایک ’بھونڈی اور ظالمانہ‘ حرکت تھی

ولیم اور ہیری کا والدہ کے تابوت کے پیچھے پیچھے چلنا ایک ’بھونڈی اور ظالمانہ‘ حرکت تھی

لندن: مرحوم شہزادی ڈیانا کے بھائی ارل سپنسر نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی بہن کے جنازے میں شہزادہ ولیم اور شہزادہ ہیری کے اپنی والدہ کے تابوت کے پیچھے چلنے کے بارے میں جھوٹ بولا گیا تھا۔ارل سپنسر کا کہنا ہے کہ پرنس ولیم اور پرنس ہیری کا یوں اپنی والدہ کے تابوت کے پیچھے پیچھے چلنا ’ ایک ’بھونڈی اور ظالمانہ‘ حرکت تھی۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے اپنی بہن کی بیسویں برسی کے حوالے سے ریڈیو فور کو انٹریو دیتے ہوئے کیا۔پرنس ولیم اور پرنس ہیری کے ماموں کا کہنا تھا کہ ان سے جھوٹ بولا گیا تھا کہ ان کے بھانجے اپنی والدہ کے جنازے میں شرکت کرنا چاہتے تھے، حالانکہ یہ بات بالکل جھوٹ تھی۔ارل سپنسر کا کہنا تھا کہ ان کی بہن کے جنازے میں شرکت کا آدھا گھنٹہ ان کی زندگی کا سب سے ہولناک وقت تھا۔ارل سپنسر کے بقول وہ آدھا گھنٹہ ’ ہر لحاظ سے دن کا سب سے بْرا وقت تھا، جب میں اپنی بہن کے تابوت کے پیچھے چل رہا تھا اور یہ دونوں لڑکے میرے ساتھ تھے، جو کہ صاف ظاہر ہے کہ اپنی ماں کے غم میں نڈھال تھے۔’ہمیں یہ کہنا کہ آپ تابوت کے پیچھے چلتے ہوئے ناک کی سیدھ میں دیکھتے رہیں، بڑی عجیب سی بات تھی۔‘ارل سپنسر کا مزید کہنا تھا کہ ان کے خاندانی گھر کے جس حصے میں ان بہن پرنسس ڈیانا دفن ہیں، وہاں اب تک چار مرتبہ دیوار پھلانگ کر داخل ہونے کی کوششیں ہو چکی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ وہ اس بات کی ’زبردست وکالت‘ کر رہے تھے کہ ولیم اور ہیری اپنی والدہ کی میت کے پیچھے نہ چلیں کیونکہ ان کی والدہ یہ بات پسند نہ کرتیں۔‘’لیکن پھر آخر کار مجھ سے جھوٹ بولا گیا اور مجھے یہ بتایا گیا کہ شہزادوں کی یہی خواہش تھی، حالانکہ وہ بالکل ایسا نہیں چاہتے تھے۔ لیکن مجھے اس وقت یہ نہیں پتا چلا کہ مجھے جھوٹ بتایا جا رہا ہے۔‘یاد رہے کہ ارل سپنسر کے اس انٹرویو سے پہلے پرنس ہیری، جو اپنی والدہ کے انتقال کے وقت بارہ سال کے تھے، جنازے میں شرکت کے حوالے سے کہہ چکے ہیں کہ کسی بھی بچے کو یہ نہیں کہنا چاہیے کہ وہ ایسا کرے۔

loading...