اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

جونز ٹاؤن میں اجتماعی خود کشی

برمودا ٹرائی اینگل میں جہاز دراصل کیوں غائب ہوتے ہیں

برمودا ٹرائی اینگل میں جہاز دراصل کیوں غائب ہوتے ہیں

فلوریڈا: برمودا ٹرائی اینگل کے نام سے کون واقف نہیں۔ بحر اوقیانوس کا یہ سمندری علاقہ دنیا بھر میں خوف و دہشت کی علامت بنا ہوا ہے کیونکہ اس کے متعلق ایسی بے شمار کہانیاں مشہور ہیں کہ جنہیں سننے والوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ گزشتہ چند دہائیوں کے دوران سینکڑوں ہوائی اور بحری جہاز برمودا ٹرائی اینگل میں ہمیشہ کے لئے غائب ہو چکے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق گزشتہ چند سالوں کے دوران اس سمندری علاقے میں ہونے والے حادثات 1000 سے زائد اموات کی وجہ بھی بن چکے ہیں۔
فلوریڈا کے ساحل سے لے کر پورٹوریکو تک پھیلے ہوئے 4 لاکھ 34 ہزار میل کے سمندری علاقے پر مشتمل برمودا ٹرائی اینگل کے متعلق طرح طرح کے نظریات سامنے آ چکے ہیں۔ کسی نے کہا کہ اس علاقے میں خلائی مخلوق اترتی ہے تو کسی نے اسے ایک بڑا بلیک ہول قرار دیا جو ہر چیز کو نگل جاتا ہے۔ ان تمام افسانوں کے برعکس پہلی بار ایک معروف سائنس دان نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس پراسرار معمے کو حل کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے ۔
یہ تحقیق کار ڈاکٹر کارل کرس زیلنکی ہیں، جن کا کہنا ہے کہ برمودا ٹرائی اینگل کے بارے میں بتائی جانے والی تمام باتیں محض قصے کہانیاں ہیں۔ اس جگہ پیش آنے والے حادثات کی وجہ خلائی مخلوق، بلیک ہول یا کوئی اور مافوق الفطرت چیز نہیں ہے بلکہ یہاں اکثر حادثات اس سمندری روٹ سے گزرنے والے بحری جہازوں کی بڑی تعداد اور انسانی غلطی کے باعث ہوتے ہیں۔ لائیڈز آف لندن کے اعدادوشمار کے مطابق برمودا ٹرائی اینگل میں لاپتہ ہونے والے ہوائی جہازوں کی تعداد دنیا کے دیگر خطوں میں لاپتہ ہونے والے ہوائی جہازوں کی تعداد سے اوسط کے حساب سے زیادہ نہیں ہے۔ یہ سمندری علاقہ خط استوا کے قریب ہے جس کی وجہ سے یہاں بحری جہازوں اور ہوائی جہازوں کی آمدورفت دنیا کے دیگر حصوں کی نسبت قدرے زیادہ ہوتی ہے اور اسی وجہ سے یہاں حادثات بھی قدرے زیادہ پیش آتے ہیں۔ ان حادثات کے گرد پھیلی کہانیوں اور رنگ برنگے افسانوں نے برمودا ٹرائی اینگل کو ایک ایسی پراسرار شے بنا دیا ہے جو اصل میں یہ بالکل نہیں ہے۔ درحقیقت اس سمندری علاقے میں کوئی بھی ایسی بات نہیں ہے جسے پراسرار قرار دیا جا سکے۔

loading...