اشاعت کے باوقار 30 سال

مرنے کا حق لینے کیلئے برطانوی شہری کا مقدمہ

لندن: موت اور زندگی اللہ کے ہاتھ میں ہے لیکن 67 سالہ برطانوی شہری نوئل کو نوے نے عدالت میں ایک درخواست دائر کی ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ انہیں اپنی موت کا فیصلہ خود کرنے کا حق دیا جائے۔ نوئل کونوے موٹر نیورون ڈزیز نامی بیماری میں مبتلا ہیں جبکہ یہ بیماری اپنے شکار کو چلنے پھرنے اور ہلنے جلنے تک کے قابل نہیں چھوڑتی جس کی وجہ سے اس کی زندگی ایک جیتی جاگتی لاش جیسی ہو کر رہ جاتی ہے۔ اس بیماری کی بنیاد پر نوئل نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ ان کی طبیعت مزید خراب ہونے پر ان کے ڈاکٹروں کو اجازت دی جائے کہ وہ انہیں زہر کا انجکشن لگا کر ہلاک کردیں تاکہ انہیں اس مستقل جسمانی معذوری اور ذہنی اذیت سے ہمیشہ کیلئے نجات مل جائے۔ چند سال قبل بننے والی بالی ووڈ فلم گزارش کی کہانی حیرت انگیز طور پر نوئل کونوے سے مشابہت رکھتی ہے کیونکہ اس فلم کا مرکزی کردار بھی معذور ہوجانے کے بعد عدالت میں مقدمہ دائر کرتا ہے کہ اسے اپنی مرضی سے مرنے کا حق دیا جائے۔ موجودہ برطانوی قانون کے تحت ڈاکٹروں کو ہر گز اجازت نہیں کہ وہ موت کے خواہش مند مریضوں کو مرنے میں مدد فراہم کریں اور اگر کوئی ڈاکٹر ایسا کرے گا تو اسے عمرقید کی سزا سنائی جائے گی۔ اپنی درخواست میں نوئل نے مذکورہ برطانوی قانون کو چیلنج کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ ایک معذور شخص کی حیثیت سے زندگی گزارنا ان کے لیے جہنم سے کم نہیں اور اس کے بجائے وہ موت کو خوشی خوشی گلے لگانے کیلئے تیار ہیں اور ایسی صورت میں انہیں اپنی موت کے وقت اور طریقہ کار کے تعین کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ اس مقدمے کی سماعت شروع ہوچکی ہے جس کا فیصلہ تین سے چار روز میں متوقع ہے لیکن ماضی میں دائر کیے گئے ایسے تمام مقدمات عدالت نے خارج ہی کیے ہیں اور درخواست گزاروں سے کہا ہے کہ عدالت کا کام صرف کسی قانون کی تشریح کرنا ہے جبکہ قانون بنانے کا کام پارلیمنٹ کا ہے۔ نوئل کونوے کے مقدمے سے ایک بار پھر یہ بحث گرم ہو گئی ہے کہ اگر کوئی شخص حد سے زیادہ بیمار ہوجائے اور اس کی بیماری بھی لاعلاج ہو تو کیا اسے موت کا حق دیا جا سکتا ہے؟

loading...