اشاعت کے باوقار 30 سال

اسرائیل،جرمنی آبدوز معاہدہ کھٹائی میں پڑ گیا

اسرائیل،جرمنی آبدوز معاہدہ کھٹائی میں پڑ گیا

مقبوضہ بیت المقدس : برلن نے تل ابیب کو تین جدید ترین آبدوز فروخت کرنے کا فیصلہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاھو کے خلاف جاری بدعنوانی کے کیسز کی تحقیقات کے باعث روک دیا ہے۔’’ڈولفن‘‘ کے نام سے مشہور یہ آبدوزیں سمندر کی گہرائیوں میں ایٹمی وار ہیڈ لے جانے کی بھی صلاحیت رکھتی ہیں۔ جرمنی کی جانب سے اسرائیل کو آبدوزوں کی فروخت ایک ایسے وقت میں روکی گئی ہے جب اسرائیل میں وزیر اعظم نیتن یاھو کے خلاف جاری کرپشن کیسز کے ساتھ ساتھ بعض حکومتی عہدیداروں پر آبدوزوں کے سودے میں رشوت وصول کرنے، منی لانڈرنگ اور بدعنوانی کے دیگر الزامات شامل ہیں۔ گذشتہ ہفتے اسرائیلی پولیس نے آبدوز ڈیل میں مبینہ کرپشن کے الزامات کا سامنا کرنے والے تین افراد کو حراست میں لیا تھا۔ ان میں نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سابق وائس چیئرمین افرییل بار یوسف، ٹائیسن گروپ کے مندوب میکی گانور اور اس کے وکیل رونین شیمر شامل تھے۔ خیال رہے کہ حال ہی میں اسرائیلی اخبارات نے دعویٰ کیا تھا کہ جرمنی نے تل ابیب کو جدید ترین آبدوزوں کی خریداری کا فیصلہ کیا ہے۔ آبدوزوں کی خریداری کے سودے کا وزیر اعظم نیتن یاھو کے خلاف جاری کرپشن کیسز کی تحقیقات سے کوئی تعلق نہیں۔

loading...