اشاعت کے باوقار 30 سال

چائنیز آٹو مینوفیکچررز گریٹ وال اور زِیوٹ آ رہے ہیں اب پاکستان میں

چائنیز آٹو مینو فیکچررز گریٹ وال اور زِیوٹ آرہے ہیں اب پاکستان میں

چائنہ پاکستان اکنامِک کوریڈور بلا شبہ آٹو موبائل انڈسٹری اور انڈسٹریل سیکٹر میں اپنے اثرات مرتب کر رہا ہے۔ چائنہ اور پاکستان کے مابین اچھے تعلقات کی بدولت چائنیز آٹو مینو فیکچررز با آسانی پاکستان میں داخل ہو سکتے ہیں اور کم قیمت گاڑیوں سے صارفین کو متوجہ کر کے حکومت اور گاڑیوں سے خاطر خواہ فوائد بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ زِیوٹ اور گریٹ وال ایسے دو چائنیز آٹو میکرز ہیں جو کہ اسی حکمتِ عملی کے تحت پاکستانی مارکیٹ میں داخل ہو رہے ہیں۔
٭ زِیوٹ: 2005 میں متعارف ہونے والی زِیوٹ چائنہ کی ایک پرائیویٹ کار مینوفیکچرر ہے جو کہ مختلف طرز کی بھروسہ مند گاڑیاں دینے کی ایک مضبوط تاریخ رکھتی ہے۔ جیسا کہ زِیوٹ پاکستان میں ایچ آر ایل موٹرز کے تحت کام کر رہی ہے اور حال ہی میں ایچ آر ایل موٹرز نے زِیوٹ کے مختلف ماڈلز یہاں پر لانے کا با ضابطہ اعلان بھی کیا ہے۔ سوشل میڈیا کی موجودہ صورت حال زِیوٹ زِی 100 کے اسی ماہ کے کسی حصہ میں متعارف ہونے کا پتہ دیتی ہے۔ جب اس کی تصدیق چاہی گئی، تو ایچ آر ایل موٹرز کا کہنا تھا کہ ’بہت سے ماڈل آنے کو ہیں اور ہم تیرہ سو سی سی، سولہ سو سی سی، ایس یو وی اور لگژری رینج بھی لا رہے ہیں، آپ باخبر رہنے کے لئے ہمارے پیج سے جڑے رہیں‘۔
٭ زِیوٹ زِی 100 (z1): زِیوٹ زِی 100 سیونتھ جنریشن سوزوکی آلٹو جیسی ہے اور ایک اعشاریہ زیرو لیٹر فور سیلنڈر انجن رکھتی ہے جو کہ کل چھپن ایچ پی کی آؤٹ پٹ دیتا ہے۔ یہ چائنہ کی سستی ترین کار ہے جس کی موجودہ قیمت تیس ہزار یوآن ہے جو کہ پاکستانی چار اعشاریہ سات لاکھ بنتے ہیں۔ جیسا کہ اس کی پاکستان میں قیمت کا ابھی کچھ کہا نہیں جا سکتا مگر ہم سمجھتے ہیں کہ یہ سات سے آٹھ لاکھ کے درمیان کہیں ہو گی۔
٭ زِیوٹ زِی 300 (z3): ٹویوٹا ایلین سے تقریباً ملتی جلتی، زِی 300 دو طرح کے انجنوں کے ساتھ آتی ہے جن میں ایک اعشاریہ پانچ لیٹر مٹسوبشی انجن جب کہ دوسری میں ایک اعشاریہ چھ لیٹر ٹربو چارجڈ انجن بشمول ایک سو پچاس ایچ پی آؤٹ پٹ کے ہوتا ہے۔اس کی قیمت صرف ساٹھ ہزار یوآن ہے۔ اگر اس گاڑی کی قیمت پاکستان میں کرولا جی ایل آئی کے جتنی ہو گی تو یہ پیسوں کے صحیح استعمال کے زمرے میں آئے گی۔
٭ زِیوٹ ایکس فائیو (z5): ڈیزائن کے لحاظ سے کئی معنوں میں واکس ویگن ٹیگوان سے ملتی، ایکس فائیوِ زِیوٹ کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی ایس یو وِی ہے۔ یہ ایک اعشاریہ پانچ لیٹر کا ٹربو چارجڈ انجن رکھتی ہے جو کہ ایک سو پچاس ایچ پی کی آؤٹ پٹ پاور دیتا ہے۔ اس کی قیمت صرف اسی ہزار یوآن ہے جو کہ ایک سٹائلش اور ہائی کلاس ایس یو وِی کے لئے بہت کم ہیں۔ یہ مارکیٹ میں ایک بہت اہم اضافہ ثابت ہو سکتی ہے اگر اس کی قیمت تیس لاکھ روپے سے نیچے ہو۔
٭ گریٹ وال موٹرز: پِک اپ اور ٹرک کے طرز کی گاڑیوں کے حوالے سے جانی جانے والی، گریٹ وال ایک چائنہ مینو فیکچرر ہے جس کا نام گریٹ وال آف چائنہ سے اخذ کیا گیا ہے۔ یہ بہت سی مناسب قیمت پِک اپ ٹرک اور دوسری کاریں رکھتے ہیں۔ اس سال کے شروعات میں گریٹ وال وِنگل پِک اپس لاہور کی سڑکوں پر دیکھی گئیں جو کہ اسی سال کسی فرم نے امپورٹ کی تھیں۔ جو وِنگل فائیو اور وِنگل سِکس کے پاکستان میں آنے کو اور تقویت بخشتی ہیں۔ چلیں نیچے ان ماڈلز کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں۔
٭ گریٹ وال وِنگل فائیو (gw1): اسی ہزار یوآن کی شروعاتی قیمت کے ساتھ۔ وِنگل فائیو ایک اچھی دِکھنے والی پِک اپ ہے جو کہ سنگل کیبن اور ڈیل کیبن باڈی شیپ میں دستیاب ہے ۔یہ دو اعشاریہ چار لیٹر کے پیٹرول اور دو اعشاریہ صفر لیٹر کے ڈیزل انجنوں میں آتی ہے۔ جیسا کہ یہ تھوڑا پرانا ماڈل ہے مگر پھر بھی یہ گاڑی بہت سی ماڈرن خصوصیات کی حامل ہے جیسا کہ ٹائر پریشر مانیٹرنگ، پارکنگ اسِسٹ اور یہاں تک کہ ایل ای ڈی ہیڈ لائٹس۔ گریٹ وال وِنگل مزید بہتر شکل میں بھی دستیاب ہے جو کہ ”وِنگل فائیو اپ گریڈ“ کے نام سے جانی جاتی ہے جو کہ زیادہ باہری خوبصورتی اور تمام باڈی میں کروم کے ٹچز رکھتی ہے۔
٭ گریٹ وال وِنگل سِکس (gw2): جیسا کہ چائنہ کی سواریوں کو عام طور پر غیر بھروسہ مند اور سستی کوالٹی تصور کیا جاتا ہے لیکن ونگل سِکس ایک ہائی اینڈ پٍک اپ ہے جو کہ تقریباً اٹھارہ سال سے بنتی چلی آ رہی ہے۔ یہ بہت مضبوط اور کارآمد ہے اور گزشتہ سولہ سالوں سے یہ چائنہ کی بہترین پِک اپ ہونے کا سہرا اپنے نام کئے ہو ئے ہے۔ بالکل وِنگل فائیو کی طرح یہ بھی دو طرح کے انجنوں میں دستیاب ہے جن میں دو اعشاریہ زِیرو لیٹر کا ٹربو چارجڈ ڈیزل اور دو اعشاریہ چار لیٹر کا پیٹرول انجن شامل ہے۔یہ اور بھی بہت سی اضافی خصوصیات کی حامل ہے جن میں شامل ہیں:
٭ ریئر ڈِف لاک ٭ ٹائر پریشر مانیٹرنگ سسٹم ٭ رِیورس ریڈار ٭ کروز کنٹرول ٭ رِیورس کیمرہ۔
بالکل ایکسٹیریئر کی طرح اس کا انٹیریئر بھی بہت خوبصورت ہے جو بہت سی ضروریات کی حامل سہولیات بھی رکھتا ہے۔ شروعاتی قیمت صرف پچانوے ہزار یوآن کے ساتھ یہ پاکستانی مارکیٹ کی ایک بہت مضبوط مدِمقابل گاڑی بنے گی اگر یہ پینتیس لاکھ سے کم قیمت میں متعارف کروائی جائے۔ حالیہ صورت حال میں، حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ کب گریٹ وال با قاعدہ پاکستان میں آئے گی مگر ہم امید کر تے ہیں کہ جیسے جیسے سی پیک کام کرے گا ہم ان دونوں مینو فیکچرز کی جانب سے مزید سستی اور جدید گاڑیاں پاکستان میں دیکھ سکیں گے۔

loading...